اسلام آباد:ادارہ جاتی اصلاحات اور گورننس کے نظام میں شفافیت لانے کے مقصد کے تحت کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے نے ایک اہم اجلاس میں دو سرکاری اداروں کو تحلیل کرنے اور متعدد محکموں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ازسرِنو تشکیل کی منظوری دے دی۔
اجلاس کی صدارت وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کی، جس میں مختلف وزارتوں کی جانب سے پیش کی گئی اصلاحاتی تجاویز اور سمریوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔نیوز رپورٹ کے مطابق، کمیٹی نے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی پیش کردہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے نیشنل کنسٹرکشن لمیٹڈ اور پاکستان انوائرنمنٹل پلاننگ اینڈ آرکیٹیکچرل کنسلٹنٹس (پرائیویٹ) لمیٹڈ کو تحلیل کرنے کے منصوبے کی توثیق کی۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق، اس اقدام کے تحت دونوں اداروں کو مرحلہ وار بند کیا جائے گا اور ان کے باقی ماندہ امور کے مؤثر انتظام کے لیے جامع فریم ورک ترتیب دیا گیا ہے۔
اجلاس میں متعدد وزارتوں کی جانب سے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نئی تشکیل اور گورننس سسٹم کی بہتری سے متعلق سمریاں بھی منظور کی گئیں۔وزارتِ قومی صحت کی سفارش پر جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر کمپنی لمیٹڈ کے بورڈ میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری دی گئی تاکہ ادارے میں شفافیت اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جا سکے۔
اسی طرح وزارتِ تجارت کی پیش کردہ سمری کی منظوری کے بعد اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کے بورڈ کی ازسرِنو تشکیل کا فیصلہ کیا گیاجس کا مقصد کارپوریٹ گورننس کو مضبوط اور نجکاری روڈ میپ کے مطابق انتظامی اصلاحات کو تیز کرنا ہے۔
وزارتِ صنعت و پیداوار کی سمری کے مطابق پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (کراچی) کے بورڈ آف گورنرز کی ازسرِنو تشکیل کی بھی منظوری دی گئی تاکہ پیشہ ورانہ تربیت کے معیار اور ادارہ جاتی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔
کمیٹی نے وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سمری منظور کرتے ہوئے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی) کے بورڈ کی ازسرِنو تشکیل کی بھی توثیق کی۔یہ اقدام ریاستی نشریاتی ادارے میں کارپوریٹ گورننس اور شفافیت کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید برآں، پیٹرولیم ڈویژن کی دو کلیدی سمریوں پر بھی غور کیا گیا۔پہلی سمری میں انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز لمیٹڈ، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے بورڈز کی نئی نامزدگیوں اور خالی نشستوں پر تقرریوں کی منظوری دی گئی۔
کمیٹی نے ہدایت دی کہ تمام حکومتی نامزد ڈائریکٹرز اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل چھ ماہ کے اندر کارپوریٹ گورننس ٹریننگ لازمی مکمل کریں۔دوسری سمری میں پیٹرولیم سیکٹر کے اداروں کو اسٹریٹجک اور ضروری اداروں کے طور پر درجہ بند کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔اس پر مزید غور کے لیے کمیٹی نے ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی وزیرِ پٹرولیم کریں گے، جب کہ اس میں وزیرِاعظم کے مشیر برائے نجکاری، سیکریٹری خزانہ، پیٹرولیم اور نجکاری شامل ہوں گے۔یہ ذیلی کمیٹی تفصیلی سفارشات تیار کر کے آئندہ اجلاس میں پیش کرے گی۔
ذرائع کے مطابق، حکومت کا مقصد سرکاری اداروں میں موثر انتظام، مالی شفافیت، اور جدید گورننس اصولوں کو فروغ دینا ہے تاکہ نجکاری اور اصلاحاتی ایجنڈا عملی شکل اختیار کر سکے۔
