ریاض: سعودی عرب کے وزیرِ سیاحت احمد بن عقیل الخطیب نے انکشاف کیا ہے کہ مملکت نے رواں سال کے آغاز سے ستمبر کے اختتام تک 88 ملین سیاحوں کا خیرمقدم کیا ہے، جو سیاحت کے شعبے میں ایک نیا تاریخی سنگِ میل ہے۔
’فورچون 2025‘ فورم میں مکالماتی نشست کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2030 تک سالانہ 150 ملین سیاحوں تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے 50 ملین بین الاقوامی سیاح ہوں گے جبکہ 1.6 ملین نئی ملازمتیں پیدا کی جائیں گی۔
وزیر سیاحت نے بتایا کہ ستمبر 2025 کے آخر تک سیاحتی شعبے میں روزگار ایک ملین سے تجاوز کر چکا ہے، جو سعودی وژن 2030 کے اہداف کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حج و عمرہ زائرین کا مجموعی تناسب جو پہلے 60 فیصد تھا، اب کم ہو کر 50 فیصد رہ گیا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ مملکت میں تفریحی، ثقافتی، ماحولیاتی اور کھیلوں کی سیاحت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔
احمد الخطیب کے مطابق 2019 میں سیاحوں کی تعداد 80 ملین تھی جو 2024 میں بڑھ کر 116 ملین ہو گئی، اور رواں سال اس میں مزید اضافے کی توقع ہے کیونکہ بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سیاحت کے شعبے میں خواتین کا حصہ 46 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جبکہ ہدف ہے کہ 2030 تک مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں سیاحت کا حصہ 10 فیصد تک پہنچایا جائے۔
وزیر سیاحت نے اعلان کیا کہ آئندہ ماہ سعودی عرب 100 بلین ڈالر سے زائد کی نئی عالمی سرمایہ کاریوں کا اعلان کرے گا، جو مملکت کے نئے سیاحتی منصوبوں کے لیے مختص ہوں گی تاکہ سیاحتی تنوع کو مزید تقویت دی جا سکے اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
