تل ابیب :اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد نے ایران کے انقلابی گارڈ کور (IRGC) پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے ایک خفیہ نیٹ ورک نے 2024 اور 2025 کے دوران دنیا بھر میں یہودی اور اسرائیلی اہداف پر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کی۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان اور اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان سازشوں کے ماسٹر مائنڈ کے طور پر سردار عماد نامی ایرانی افسر کی شناخت کی گئی ہے، جو قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی کے ماتحت کام کرتے ہیں۔
موساد کے مطابق، سردار عماد ایک ایسے آپریشنل نیٹ ورک کی نگرانی کرتے تھے جو آسٹریلیا، یونان، اور جرمنی سمیت متعدد ممالک میں کارروائیاں کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا۔یہ نیٹ ورک ایک منظم اور تربیت یافتہ 11,000 ارکان پر مشتمل یونٹ پر مشتمل ہے، جنہیں بیرونِ ملک اسرائیلی اور یہودی مفادات کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ نیٹ ورک کا طریقہ کار ایرانی فنگر پرنٹس سے پاک رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ حملوں کے بعد ایران کا براہِ راست تعلق ثابت نہ ہو۔
یہ تنظیم غیر ملکی ایجنٹوں، مجرموں اور کرائے کے کارندوں کو بھرتی کرتی ہے، خفیہ مواصلاتی نظام استعمال کرتی ہے، اور مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے گلوبل نیٹ ورک آف پراکسیز تشکیل دیتی ہے۔
موساد نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی انٹیلی جنس نے بین الاقوامی سکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے درجنوں حملوں کے منصوبے ناکام بنائے۔بیان میں کہا گیا کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد انسانی جانیں بچائی گئیں اور نیٹ ورک کے کئی اہم اراکین کو گرفتار کر لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق یہ نیٹ ورک گزشتہ دو برسوں میں یورپ، جنوبی ایشیا اور افریقہ میں فعال تھا اور اسرائیلی سفارتکاروں، مذہبی اداروں، سیاحتی مقامات اور کاروباری شخصیات کو ممکنہ اہداف کے طور پر دیکھ رہا تھا۔
تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ یہ یونٹ کئی سالوں سے ایران کے قدس فورس کی نگرانی میں خفیہ تربیت حاصل کرتا رہا۔
موساد نے کہا کہ متعدد ممالک میں پکڑے گئے ایجنٹس نے تفتیش کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ “سردار عماد” کے نیٹ ورک سے براہِ راست رابطے میں تھے اور انہیں ان ممالک میں خاموش کارروائیوں کے احکامات دیے گئے تھے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ
ایران نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں دہشت گردی کا نیٹ ورک پھیلا رہا ہے، جس کا مقصد اسرائیلیوں اور یہودی برادری کو نشانہ بنانا ہے۔ موساد اور اس کے اتحادی ان سازشوں کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، آسٹریلیا، جرمنی اور یونان میں متعلقہ سکیورٹی اداروں نے بھی ایران سے منسلک مشتبہ سرگرمیوں پر تحقیقات تیز کر دی ہیں
