اسلام آباد/ریاض:پاکستان کے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے درمیان ریاض میں اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون کے ایک جامع فریم ورک کے آغاز پر اتفاق کیا ہے۔ اس تاریخی پیش رفت کا مقصد تجارتی، اقتصادی، سرمایہ کاری اور ترقیاتی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا اور نجی شعبے کے کردار کو بڑھانا ہے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق ملاقات میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، اور دونوں ممالک کی کابینہ کے سینئر ارکان بھی شریک تھے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ فریم ورک دونوں ممالک کی تقریباً آٹھ دہائیوں پر محیط تاریخی شراکت داری، اسلامی یکجہتی اور بھائی چارے کے مضبوط رشتے کی عکاسی کرتا ہے۔
اقتصادی فریم ورک کے تحت توانائی، صنعت، کان کنی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور غذائی تحفظ جیسے شعبوں میں اسٹریٹجک اور اعلیٰ اثرات کے حامل منصوبوں پر کام کیا جائے گا۔ اس میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان بجلی کی ترسیل (Electricity Interconnection) کے منصوبے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) اور توانائی کے شعبے میں تعاون کی MoU بھی شامل ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ اقدامات نہ صرف تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط کریں گے بلکہ دونوں ممالک کی قیادت اور عوام کی امنگوں کی ترجمانی بھی کریں گے۔ مزید برآں، دونوں ممالک کے رہنما سعودی پاکستان سپریم کوآرڈینیشن کونسل کے آئندہ اجلاس کے انعقاد کے بھی منتظر ہیں تاکہ منصوبوں کی عملداری اور نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
قبل ازیں، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو کی نویں کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد کے ہمراہ ریاض پہنچے۔ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمن بن عبدالعزیز، پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور سعودی عرب میں پاکستانی سفیر احمد فاروق نے وزیرِ اعظم اور وفد کا استقبال کیا۔
وزیرِ اعظم کے ہمراہ وفاقی وزراء محمد اورنگزیب اور عطاء اللہ تارڑ، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور بلال بن ثاقب، اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف پاکستان میں سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے مواقع کو بڑھانا ہے بلکہ عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں سے ملاقاتوں کے ذریعے پاکستان کے لیے پائیدار ترقی اور اقتصادی شمولیت کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔
کانفرنس اور ملاقاتوں کے دوران وزیرِ اعظم نے عالمی رہنماؤں کے ساتھ پاکستان میں سرمایہ کاری، انسانی وسائل، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی۔ علاوہ ازیں، دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے عالمی و علاقائی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ تعاون کے نئے راستے تلاش کیے جا سکیں۔
اس پیش رفت کو ماہرین اقتصادیات اور سفارتکار پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف باہمی تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے اقتصادی اور سماجی مفادات کو بھی فروغ دے گا۔
