ریاض کے شاہ عبدالعزیز انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں عالمی سرمایہ کاری کے سب سے بڑے فورمز میں سے ایک، مستقبل سرمایہ کاری کانفرنس کے نویں ایڈیشن کا آغاز ایک شاندار تقریب کے ساتھ ہوا۔ اس سال کانفرنس کا مرکزی موضوع ’’خوشحالی کی کنجی‘‘ رکھا گیا ہے، جس میں دنیا بھر سے مملکتوں کے سربراہان، وزراء، سرمایہ کاری فنڈز کے نمائندے، بین الاقوامی کمپنیوں کے سربراہان، اور مختلف صنعتی و تکنیکی شعبوں کے ماہرین شریک ہیں۔
افتتاحی اجلاس میں سعودی عرب کے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ کے گورنر، آرامکو کے چیئرمین اور ایف آئی آئی انسٹیٹیوٹ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے سربراہ یاسر الرمیان نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم عالمی سطح پر اُن اہلِ فکر و سرمایہ کاروں کو اکٹھا کرتا ہے جو نظریات کو عملی سرمایہ کاری میں بدل کر دنیا پر اثر ڈالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں اس فورم کے ذریعے ڈھائی سو ارب ڈالر سے زائد کے معاہدے طے پا چکے ہیں، جو اس کانفرنس کے عالمی اثرات کا واضح ثبوت ہے۔
یاسر الرمیان نے کہا کہ دنیا ایک نئے معاشی اور تکنیکی دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں پرانے ماڈل اب ترقی کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ نہیں رہ سکے۔ ان کے مطابق حکومتیں تنہا تبدیلی نہیں لا سکتیں اور نجی شعبہ بھی اکیلا عالمی چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل نہیں۔ ترقی اور خوشحالی کے لیے حکومتوں اور نجی اداروں کے درمیان حقیقی شراکت ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک نئے عالمی ماڈل کی ضرورت ہے جو اجتماعی مفاد، شراکت اور جدت پر مبنی ہو۔
انہوں نے عالمی معیشت کے موجودہ منظرنامے پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی مجموعی پیداوار 111 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور اس میں رواں سال مزید 2.8 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ خوشحالی کے باوجود دنیا میں امید اور خوف کے درمیان ایک واضح خلیج موجود ہے۔ ان کے مطابق ایف آئی آئی انسٹیٹیوٹ کی تازہ رپورٹ بتاتی ہے کہ اگرچہ 66 فیصد لوگ اپنی ذاتی زندگی سے مطمئن ہیں، لیکن صرف 37 فیصد ہی دنیا کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں جبکہ 69 فیصد کو خدشہ ہے کہ بیرونی مسابقت ان کی ملازمتوں کو خطرے میں ڈال دے گی۔
یاسر الرمیان نے کہا کہ ٹیکنالوجی اس خلیج کو پاٹنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس تک رسائی سب کے لیے یکساں ہو۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ چار میں سے تین افراد کو خدشہ ہے کہ مصنوعی ذہانت تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ معاشروں کے درمیان فاصلہ مزید بڑھا دے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا اس عدم مساوات کو مزید برداشت نہیں کر سکتی، کیونکہ ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والی یہی ناہمواریاں عالمی بحرانوں کو جنم دیتی ہیں۔ ان کے مطابق 2025 میں دنیا کی تقریباً دس فیصد آبادی — یعنی لگ بھگ 80 کروڑ لوگ — انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہوں گے، اور یہ صورتحال اجتماعی سوچ اور فوری عملی اقدامات کی متقاضی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرمایہ کی طاقت، جو اس کانفرنس میں شریک عالمی رہنماؤں اور فیصلہ سازوں کے ہاتھ میں ہے، ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے اور ایک تاریخی موقع بھی۔ اگر ہم اس سرمایہ کو دانشمندانہ طریقے سے بروئے کار لائیں تو یہ دنیا بھر میں سلامتی، مواقع کی فراہمی اور پائیدار ترقی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ کھلے بازاروں اور سمجھدار ریگولیشن کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کریں۔
یاسر الرمیان نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں سعودی عرب کی معاشی تبدیلی کو ’’دنیا کے لیے نیا معیار‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وژن 2030 کے آغاز کو نو برس گزر چکے ہیں، اور اب اس کے ثمرات واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔ نئی اقتصادی بستیاں، جدید صنعتیں، مربوط سپلائی چینز، اور جدید طرز کی شہری منصوبہ بندی — یہ سب اس وژن کے ثبوت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں گزشتہ برس 24 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 31.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو دنیا کے بڑھتے اعتماد کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ’’دنیا کو ہم سے متعارف کرایا گیا ہے، اور اب دنیا خود ہمارے دروازے پر آ رہی ہے‘‘۔ اس موقع پر انہوں نے آنے والے عالمی ایونٹس — جیسے ایکسپو 2030 اور فیفا ورلڈ کپ 2034 — کو مملکت کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی حیثیت کی عکاسی قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب میں خوشحالی صرف اعداد و شمار سے نہیں بلکہ انسانوں کی فلاح سے ناپی جاتی ہے۔ ان کے مطابق ریاض میں جاری یہ ہفتہ دنیا بھر کے ممالک کے لیے موقع ہے کہ وہ سرحدوں سے بالاتر شراکت داریوں کے ذریعے حقیقی اثر پیدا کریں اور مشترکہ ترقی کی راہ ہموار کریں۔
اس موقع پر ایف آئی آئی انسٹیٹیوٹ کے قائم مقام سی ای او اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین رچرڈ اتیاس نے بھی شرکاء سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک سرمایہ کاری فورم نہیں بلکہ ایک عالمی تحریک ہے جو مقابلے کے بجائے تعاون پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے مطابق یہ فورم اس لیے بنایا گیا تھا کہ عالمی رہنما اور فیصلہ ساز مستقبل پر گفتگو کرنے کے بجائے اسے خود تشکیل دیں۔
رچرڈ اتیاس نے بتایا کہ اس سال کے ایڈیشن میں شرکاء کی تعداد 9 ہزار تک جا پہنچی ہے، جن میں 2 ہزار ممبران اور دنیا بھر کے میڈیا نمائندے شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایڈیشن اپنی شمولیت کے اعتبار سے اب تک کا سب سے بڑا ہے اور ’’خوشحالی کی کنجی‘‘ کے عنوان سے ایک ایسے عہد کا آغاز کر رہا ہے جو انسانی ترقی، صحت، مصنوعی ذہانت اور تخلیقی جدت کو نئی سمت دینے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ پلیٹ فارم سب کا ہے — یہ اجتماعی سوچ اور جرات مندانہ فیصلوں کا نتیجہ ہے۔ اگر ہم سب مل کر اس میں حصہ لیں تو یہ دنیا کو ایک بہتر مستقبل کی جانب لے جا سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ آنے والے دنوں میں نئی مالیاتی راہیں اور سرمایہ کاری کے منصوبے متعارف کروائے جائیں گے، جو عالمی معیشت میں جدت، ہمت اور تعاون کے نئے باب کھولیں گے۔
ریاض میں ہونے والی اس عالمی کانفرنس نے نہ صرف مستقبل کی معیشت پر گفتگو کا نیا باب کھولا ہے بلکہ یہ واضح پیغام بھی دیا ہے کہ عالمی ترقی اب کسی ایک ملک یا ادارے کا کام نہیں بلکہ اجتماعی بصیرت، انسانی فلاح، اور مشترکہ عمل ہی خوشحالی کی اصل کنجی ہیں۔
