ریاض: سعودی عرب نے نجی شعبے میں ملازمتوں کے معاہدوں کے لیے ایک نیا اور انقلابی ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا ہے، جس سے روزگار کے رشتے میں شفافیت، قانونی تحفظ اور اعتماد کی نئی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ اب ہر ملازمت کا معاہدہ دو سرکاری پلیٹ فارمز “قویٰ (Qiwa)” اور “نجز (Najiz)” پر رجسٹر اور تصدیق شدہ ہوگا، یعنی محض دستخط کافی نہیں ہوں گے اب ہر کنٹریکٹ کو عدالتی حیثیت حاصل ہوگی۔
یہ اقدام سعودی عرب کے جاری مزدور اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے، جس کا مقصد صرف کاغذی تبدیلی نہیں بلکہ حقیقی شفافیت، انصاف اور ملازمین کے حقوق کی مضبوط ضمانت دینا ہے۔ ماضی میں صرف “قویٰ” پر رجسٹریشن کافی سمجھی جاتی تھی، لیکن نئے نظام نے ایک نیا باب کھولا ہ جیسے ہی معاہدہ قویٰ پر رجسٹر ہوتا ہے، وہ خود بخود وزارتِ انصاف کے “نجز” پلیٹ فارم پر قانونی دستاویز کے طور پر منتقل ہو جاتا ہے۔ اب یہ معاہدہ عدالت میں پیش کیے بغیر بھی قانونی طور پر نافذ العمل سمجھا جائے گا۔
سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر کسی آجر نے ملازم کی تنخواہ 30 دن سے زیادہ تاخیر سے دی، تو ملازم کو اب مزدور عدالتوں کے طویل عمل سے گزرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ براہِ راست “نجز” پلیٹ فارم سے نفاذِ معاہدہ کی درخواست دے کر فوری کارروائی کرا سکتا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی سعودی لیبر سسٹم میں ایک انقلابی پیش رفت ہے، جو آجر کی ذمہ داریوں پر سخت نگرانی اور ملازمین کو تیز رفتار انصاف فراہم کرے گی۔
نئے ضوابط کے تحت اب ہر معاہدے میں آجر اور ملازم دونوں کا رجسٹرڈ قومی پتہ، تنخواہ کی مقررہ تاریخ، ملازمت کی نوعیت (مدت والی یا غیر معینہ) اور عہدہ و مراعات جیسی تفصیلات شامل کرنا لازمی ہوگا۔ اگر کمپنی نے غلط یا نامکمل معلومات درج کیں، تو اسے بھاری جرمانے، ورک پرمٹ کی معطلی یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ نظام اس سال کے آغاز میں کفالت نظام (کفالا) کے خاتمے کے بعد ایک اور بڑی اصلاح کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اب غیر ملکی ملازمین کو نہ صرف ملازمت تبدیل کرنے کی آزادی حاصل ہے بلکہ وہ آجر کی اجازت کے بغیر بیرونِ ملک سفر بھی کر سکتے ہیں۔ نیا نظام اس آزادی کو قانونی ڈھانچے کے اندر تحفظ فراہم کرتا ہے، تاکہ آجر و ملازم دونوں اپنے حقوق اور ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ رہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، سعودی حکومت کی یہ اصلاحات مملکت کو عالمی معیار کے لیبر قوانین کے قریب لا رہی ہیں۔ اس سے نہ صرف 13 ملین سے زائد غیر ملکی کارکنان کو بہتر قانونی تحفظ حاصل ہوگا بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا۔ اب ہر معاہدہ محض ایک دستاویز نہیں بلکہ قانونی وعدہ ہے، جسے ڈیجیٹل دستخط اور عدالتی تصدیق کی پشت پناہی حاصل ہے۔
قانونی ماہرین اسے سعودی وژن 2030 کی روح کے عین مطابق قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ قدم مملکت کو ایک جدید، انصاف پر مبنی اور ڈیجیٹل معیشت سے ہم آہنگ مزدور نظام کی طرف لے جا رہا ہے، جہاں ہر ملازم کا حق محفوظ اور ہر آجر کا کردار واضح ہے۔ یہ صرف ایک نظام نہیں بلکہ اعتماد، شفافیت اور انصاف کی نئی شروعات ہے۔
