سعودی عرب کی بڑی کمپنیوں نے شام میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کےمنصوبے کا اعلان کرکے علاقائی معیشت اور کاروباری منظرنامے میں نئے دور کے اشارے دیے ہیں۔ اس اقدام کے تحت توانائی، مالیات،مواصلات، تعلیم،صحت اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی جائے گی تاکہ جنگ سے تباہ حال شامی معیشت کو دوبارہ کھڑا کیا جا سکے۔
سعودی کمپنیوں میں معروف توانائی فراہم کنندہ اکوا پاور اور مواصلاتی کمپنی ایس ٹی سی شامل ہیں، جنہوں نے شامی مارکیٹ میں قدم رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ سعودی عرب کے 60 اراکین پر مشتمل سعودیہ شام بزنس کونسل بھی اس منصوبے کی قیادت کر رہی ہے۔
ریاض میں مستقبل سرمایہ کاری کانفرنس کے دوران عبداللہ ماندو نے بتایا کہ اگلے پانچ برسوں میں شام میں اربوں ڈالر کی حقیقی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس میں رئیل اسٹیٹ، بنیادی ڈھانچے اور آئی ٹی کے منصوبے شامل ہیں۔ سعودی منصوبہ الدرعیہ کمپنی نے شامی حکام کے ساتھ تاریخی مقامات کی بحالی اور اردن کے راستے ریلوے لائن کے قیام پر بھی بات چیت شروع کر دی ہے۔
تاہم سرمایہ کاری کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکی پابندیاں، خصوصاً قیصر ایکٹ ہے، جس کے تحت شام کے ساتھ تجارتی لین دین محدود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی سابقہ ملاقات میں پابندیوں کے خاتمے کا عندیہ دیا تھا، مگر قانون کی حتمی منسوخی کانگریس کے فیصلے پر منحصر ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شام میں سرمایہ کاری کا فیصلہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے اہداف سے مطابقت رکھتا ہے، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کر کے معیشت کو متنوع بنانا اور سعودی عرب کو خطے میں مرکزی تجارتی مرکز بنانا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق شام کی تعمیر نو کے اخراجات تقریباً 216 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، اور خانہ جنگی کے 14 سالوں نے ملک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سعودی اور شامی حکام کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری امداد کے سہارے نہیں بلکہ حقیقی معیشتی ترقی کے ذریعے شام کی بحالی کا اہم ذریعہ بنے گی۔
