تہران / واشنگٹن:ایران کے صدرمسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ تہران اپنی تباہ شدہ جوہری تنصیبات کو زیادہ قوت کے ساتھ دوبارہ تعمیر کرے گا۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کا مقصد جوہری ہتھیار حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کی جوہری سرگرمیاں پُرامن اور عوامی فلاح کے لیے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جون میں امریکہ کی بمباری سے متاثرہ تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرتا ہے، تو واشنگٹن نئے فضائی حملوں کا حکم دے گا۔
ایرانی صدر نے اتوار کے روز ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے صدر دفتر کے دورے کے دوران جوہری صنعت کے اعلیٰ عہدیداروں سے ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں نے کہا عمارتوں اور کارخانوں کو تباہ کرنا ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہم انہیں دوبارہ تعمیر کریں گےبلکہ زیادہ قوت اور مضبوطی کے ساتھ۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام عوامی ضروریات سے جڑا ہوا ہے، ہماری سرگرمیاں عوام کی صحت، بیماریوں کے علاج، اور سائنسی ترقی کے لیےہیں نہ کہ کسی ہتھیار کے لیے ہیں ،امریکہ نے جون 2025 میں ایران کی متعدد جوہری تنصیبات پر محدود فضائی حملے کیے تھے۔واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ یہ تنصیبات “جوہری ہتھیاروں کے حصول کے پروگرام” کا حصہ تھیں۔
تاہم تہران نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا جوہری پروگرام شہری اور سائنسی مقاصد کے لیے ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق، ان حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا اور خلیجی ممالک نے جوہری سلامتی کے خدشات کے حوالے سے تشویش ظاہر کی تھی۔صدر ٹرمپ نے ہفتے کے آغاز میں ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران اپنی تنصیبات کو دوبارہ فعال کرتا ہے تو امریکہ ایران کے نیوکلیئر مراکز پر دوبارہ حملہ کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دے گا۔واشنگٹن کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی سرگرمیاں قبول شدہ حد سے تجاوز کر چکی ہیں، جب کہ تہران کے مطابق وہ صرف توانائی کے مقاصد کے لیے کام کر رہا ہے۔
بین الاقوامی برادری نے ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش ظاہر کی ہے۔یورپی یونین، روس اور چین نے دونوں ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ جوہری معاہدے (JCPOA) کی بحالی کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔ماہرین کے مطابق، ایران کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران خود انحصاری اور مزاحمت کی پالیسی پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ امریکہ اسے علاقائی خطرے کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
