ایران نے عراق میں مسلح گروہوں کو فوجی امداد میں اضافہ کر دیا ہے، جسے اسرائیلی نشریاتی ادارے نے اسرائیل کے ساتھ ممکنہ تصادم کی تیاری قرار دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تہران نے اپنا عسکری اثر و رسوخ لبنان، شام اور غزہ سے عراق منتقل کیا ہے، کیونکہ گزشتہ دو برسوں میں ایران کے حامی محور کو ان محاذوں پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
عراقی ذرائع کے مطابق ایرانی امداد میں جدید ہتھیاروں کی فراہمی اور جنگجوؤں کی نئی حربی حکمت عملی کی تربیت شامل ہے، جو پاسدارانِ انقلاب کی القدس بریگیڈ کی نگرانی میں ہو رہی ہے۔ ایران اپنے اتحادی گروہوں کو اس ممکنہ صورتحال کے لیے تیار کر رہا ہے کہ اگر خطے میں نیا تنازع شروع ہوا تو وہ اسرائیل کے خلاف کارروائی کر سکیں۔ ان گروہوں کو بعض علاقوں میں عراقی فوج سے زیادہ مؤثر قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ بغداد میں مرکزی حکومت کا اثر محدود ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ اسرائیل ایران کشیدگی کے دوران عراقی ملیشیاؤں نے براہِ راست مداخلت سے گریز کیا، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے بغداد پر دباؤ ڈالا تھا۔ اسرائیلی فوج اور موساد عراق میں ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کے ممکنہ حملوں کے لیے تیاری کر رہے ہیں، جن میں راکٹ اور ڈرون کے ذریعے اسرائیل کو نشانہ بنانے کا امکان ہے۔
اس رپورٹ میں کہا گیا کہ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے القدس بریگیڈ کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے عراق کا دورہ کیا اور ملیشیاؤں کے اعلیٰ کمانڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ امکان ظاہر کیا گیا کہ کسی بھی ممکنہ حملے میں عراقی سرزمین سے اسرائیل کو راکٹ اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، بالکل ویسے ہی جیسے حماس کے حملوں میں اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب عراقی وزیرِاعظم محمد شیاع السودانی نے کہا ہے کہ حکومت تمام ہتھیار ریاستی کنٹرول میں لینے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم یہ تب تک ممکن نہیں جب تک امریکی اتحاد عراق میں موجود ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ مسلح گروہ اگر ہتھیار چھوڑ دیں تو انہیں سرکاری سیکیورٹی اداروں میں ضم کیا جا سکتا ہے یا سیاسی عمل کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
