جدہ /ریاض:سعودی عرب کے مغربی علاقے میں قائم کنگ فیصل نیول بیس میں گزشتہ روز مشترکہ بحری مشقوں "سرخ موج 8” (Red Wave 8) کا باقاعدہ آغاز ہوگیا۔
یہ مشقیں سعودی عرب کی میزبانی میں شروع کی گئی ہیں جن میں بری، بحری، فضائیہ اور نیشنل گارڈ کے دستے بھرپور انداز میں شریک ہیں۔سعودی خبررساں ایجنسی (SPA) کے مطابق، اس اہم عسکری مشق میں اردن، مصر، جیبوتی، سوڈان اور یمن کے فوجی یونٹس حصہ لے رہے ہیں، جبکہ پاکستان اور موریطانیہ کو آبزرور (Observer) کی حیثیت سے مدعو کیا گیا ہے۔
مغربی بحری بیڑے کے کمانڈر ریئر ایڈمرل منصور الجوید نے افتتاحی تقریب کے موقع پر کہا کہ یہ مشقیں حصہ لینے والے ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، عسکری ہم آہنگی اور سیکیورٹی انضمام کو مضبوط بنانے کا عملی اظہار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ "سرخ موج 8” کا بنیادی مقصد بحیرہ احمر کی سکیورٹی میں اضافہ، سمندری راستوں کے تحفظ، جہاز رانی کی آزادی اور مشترکہ آپریشنز کی استعداد بڑھانا ہے۔
یہ مشق اس خطے کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ بحیرہ احمر عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کا ایک کلیدی راستہ ہے، جس کے ذریعے سالانہ لاکھوں ٹن سامان اور تیل کی سپلائی ہوتی ہے۔ایسے میں خطے کے ممالک کی مشترکہ عسکری تیاریوں کا مقصد بحری قزاقی، اسمگلنگ، اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔مشقوں کے ڈائریکٹر بریگیڈیئر جنرل عبداللہ بن محمد الانزی کے مطابق، "سرخ موج” مشقوں کا آغاز سال 2019 میں ہوا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اس مشق کے دوران جدید ترین جنگی نظاموں، نیویگیشن ٹیکنالوجی، اور کثیر الجہتی آپریشنل حکمت عملیوں کو اپنایا جا رہا ہے تاکہ عسکری افواج کی منصوبہ بندی، ریسپانس اور آپریشنل صلاحیتوں میں اضافہ کیا جا سکے۔بریگیڈیئر جنرل الانزی کے مطابق، یہ مشقیں نہ صرف بحری دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم کرتی ہیں بلکہ ریجنل سیکیورٹی کے فریم ورک کو بھی مضبوط بناتی ہیں، جو خطے کے امن و استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
