پاکستان آرمی نے ایک بار پھر اپنی اعلیٰ تربیت، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسری انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 کا ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ یہ مقابلے پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام جہلم میں منعقد ہوئے، جن میں ملک کی تمام مسلح افواج اور سول اداروں کے بہترین نشانہ بازوں نے حصہ لیا۔ اس ایونٹ نے نہ صرف پاک فوج کی فائرنگ مہارت کو اجاگر کیا بلکہ دفاعی شعبے میں بڑھتی ہوئی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا عملی ثبوت بھی فراہم کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، پاکستان آرمی رائفل ایسوسی ایشن کی 45ویں سینٹرل میٹ یکم اکتوبر سے 10 نومبر تک جاری رہی۔ اختتامی تقریب آرمی مارک مین شپ یونٹ (AMU) جہلم میں منعقد ہوئی، جہاں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مہمانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔ اس موقع پر پاک فوج، پاک فضائیہ، پاک بحریہ، سول آرمڈ فورسز اور صوبائی رائفل ایسوسی ایشنز کے نمائندوں سمیت دو ہزار سے زائد شوٹرز نے شرکت کی۔ شرکا نے مختلف مقابلوں میں اپنی نشانہ بازی، نظم و ضبط اور عزم و حوصلے کا شاندار مظاہرہ کیا۔
یہ مقابلے نہ صرف شوٹنگ مہارت کے امتحان کے طور پر بلکہ مختلف سروسز کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور دوستانہ مقابلے کے جذبے کے فروغ کے لیے بھی منعقد کیے گئے۔ شرکا نے رائفل، پسٹل اور کامبیٹ شوٹنگ کے مختلف مراحل میں حصہ لیا، جن میں درستگی، رفتار اور دباؤ کے دوران کارکردگی کو جانچا گیا۔ طویل مقابلوں کے اختتام پر پاکستان آرمی نے تمام چار انٹر سروسز میچز میں کامیابی حاصل کرکے چیمپئن شپ اپنے نام کرلی۔
پنجاب رجمنٹ نے یونٹ فائرنگ پروفیشنسی میچ گروپ-1 میں پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ سپاہی محمد عرفان نے “*ماسٹر ایٹ آرمز” کا اعزاز جیتا۔ اسی طرح *آرمی مارک مین شپ یونٹ کے نائب صوبیدار عمر فاروق نے آرمی ہنڈرڈ رائفل میچ ٹرافی اپنے نام کی۔ ان انفرادی کامیابیوں نے اس بات کو مزید واضح کیا کہ پاک فوج اپنے ہر سپاہی میں مہارت، اعتماد اور تربیت کی اعلیٰ سطح برقرار رکھنے پر یقین رکھتی ہے۔
اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکا کی شاندار کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ نشانہ بازی میں مہارت فوجی تربیت کا بنیادی جزو ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ فائرنگ کی درستگی اور پرسکون رہ کر فیصلہ کرنے کی صلاحیت ایک مضبوط فوج کی پہچان ہے۔ ان کے بقول، نشانہ بازی محض ایک مقابلہ نہیں بلکہ پیشہ ورانہ تیاری اور قومی دفاع کے لیے لازمی جزو ہے۔
تقریب کے بعد آرمی چیف نے ملٹری کالج جہلم کی سو سالہ تقریبات میں بھی شرکت کی، جہاں انہوں نے ادارے کی ایک صدی پر محیط خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یادگارِ صد سالہ خدمات اور کالج میوزیم کا افتتاح کیا، جس میں ادارے کی تاریخ، نمایاں فارغ التحصیل طلبا اور قومی دفاع میں ان کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ملٹری کالج جہلم کی نظم و ضبط، حب الوطنی اور قیادت سازی کے تسلسل کو سراہا اور کہا کہ ادارے کے سابق طلبا، جنہیں “*عالمگیرینز” کہا جاتا ہے، نے ہمیشہ پاکستان اور افواجِ پاکستان کا نام بلند کیا۔ بعد ازاں انہوں نے *یادگارِ شہدا پر پھول چڑھائے اور شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ فیلڈ مارشل کی آمد پر کور کمانڈر راولپنڈی اور انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن نے ان کا استقبال کیا۔
یہ کامیاب ایونٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف دفاعی اعتبار سے چوکنا ہیں بلکہ تربیت، مہارت اور نظم و ضبط کے ہر پہلو میں عالمی معیار پر کھری اترتی ہیں۔ انٹر سروسز کامبیٹ شوٹنگ چیمپئن شپ 2025 نے اس امر کو مزید مستحکم کیا کہ ایک مضبوط فوج کی بنیاد اس کے تربیت یافتہ اور مستعد جوان ہیں، جن کی درستگی، بہادری اور نظم و ضبط ہی ان کی اصل طاقت ہے۔
