گلگت بلتستان کے ضلع چلاس میں شاہراہِ قراقرم پر پیش آنے والا حالیہ لینڈ سلائیڈنگ کا واقعہ نہ صرف مقامی آبادی کے لیے باعثِ خوف و تشویش بنا ہوا ہے بلکہ اس نے ایک بار پھر پاکستان کے شمالی علاقوں میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی خطرات کو نمایاں کر دیا ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ چلاس کے قریب گندلو نامی علاقے میں اس وقت پیش آیا جب اچانک پہاڑوں سے مٹی، چٹانیں اور بڑے پتھر تیزی سے نیچے آ گرے اور دیکھتے ہی دیکھتے شاہراہ کا ایک وسیع حصہ ملبے سے بھر گیا۔
اس اچانک پیش آنے والی آفت نے کئی گاڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جن میں سے کم از کم چھ گاڑیاں مکمل طور پر ملبے تلے دب گئیں، جبکہ متعدد دیگر مسافر گاڑیاں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ کچھ مناظر میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دو گاڑیاں توازن برقرار نہ رکھ سکیں اور سیدھی نیچے دریائے سندھ میں جا گریں۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے میں ہنگامی صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ مقامی افراد، پولیس، اور محکمۂ شاہرات کے عملے نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے معلوم ہوا ہے کہ ملبے تلے کچھ افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ہے، تاہم تاحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق کچھ مسافروں نے حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گاڑیوں سے چھلانگ لگا کر اپنی جانیں بچالیں۔ اس دوران علاقے میں موجود شہریوں نے بھی ریسکیو ٹیموں کی مدد کی اور پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے میں حصہ لیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر تمام متعلقہ اداروں کو حرکت میں آنے کی ہدایت کی۔ ریسکیو 1122، پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو موقع پر بھیج دیا گیا ہے جبکہ قریبی اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور ایمبولینسز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ زخمی کو فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت دی ہے کہ شاہراہِ قراقرم کے اس حصے کو جلد از جلد کلیئر کرنے کے لیے بھاری مشینری، کرینز اور ایکسکیویٹرز تعینات کیے جائیں۔
ریسکیو ٹیموں کے مطابق ملبہ ہٹانے کا کام انتہائی دشوار ہے کیونکہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث راستہ مکمل طور پر بند ہو چکا ہے اور پہاڑی ڈھلوان اب بھی غیر مستحکم ہیں، جس سے مزید پتھر گرنے کا خدشہ برقرار ہے۔ علاقے میں ٹریفک مکمل طور پر معطل ہے، جس کے باعث قراقرم ہائی وے پر سفر کرنے والے سینکڑوں مسافر مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔ سڑک کی بندش کے نتیجے میں نہ صرف سیاحوں کو مشکلات کا سامنا ہے بلکہ ضروری اشیاء کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان کے پہاڑی سلسلے خاص طور پر حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے گزر رہے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار تیز ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں پہاڑوں کی ساخت کمزور پڑ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات اب ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ کثرت سے پیش آ رہے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم چونکہ انہی نازک پہاڑی خطوں سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں معمولی بارش یا زلزلہ بھی بڑے حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔
چلاس، گندلو اور اس کے گردونواح کے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے علاقے میں وقفے وقفے سے ہلکی بارش جاری تھی جس سے زمین نرم ہو گئی تھی۔ اسی نرمی نے ممکنہ طور پر پہاڑ کی سطح کو کمزور کیا اور بالآخر یہ حادثہ پیش آیا۔ متاثرہ علاقے میں بجلی اور مواصلاتی نظام بھی عارضی طور پر معطل ہے۔
حکومت کی جانب سے عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ جب تک شاہراہ مکمل طور پر کلیئر نہیں ہو جاتی، مسافر متبادل راستوں کو ترجیح دیں۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں مزید بارشوں کا امکان ہے، اس لیے قراقرم ہائی وے پر سفر انتہائی احتیاط سے کیا جائے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کے شمالی علاقوں میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بہتر پیشگی انتظامات، مانیٹرنگ سسٹم، اور ہنگامی ریسپانس میکانزم کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات انسانی جانوں اور املاک کے بڑے نقصان کا سبب نہ بنیں۔
