کابل: افغانستان کی عبوری طالبان حکومت نے اسلام آباد خودکش دھماکے اور وانا میں کیڈٹ کالج پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
سرکاری میڈیاکےمطابق افغان وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اسلام آباد میں دھماکا اور وانا کے تعلیمی مرکز پر حملہ انتہائی افسوسناک واقعات ہیں، افغان حکومت ان دہشتگرد کارروائیوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان حملوں میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرا دکھ ہے، اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی گئی۔ افغان وزارتِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ پاکستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام فریق مل کر کام کریں گے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد کے جی-الیون کچہری کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے میں 12 افراد شہید اور 30 زخمی ہوئے، جن میں سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔
اس سے دو روز قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں کیڈٹ کالج پر فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تمام چار حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وانا حملے میں ملوث دہشتگردوں کے افغانستان سے براہِ راست روابط تھے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے اعلان کیا کہ پاکستان ان حملوں کے ٹھوس شواہد بین الاقوامی فورمز پر پیش کرے گا تاکہ دنیا دہشتگردوں کے نیٹ ورک اور ان کے معاونین سے آگاہ ہو سکے
