حکام کا کہنا ہے کہ تین عسکریت پسند ’کالج کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے جنہیں بعد ازاں انتظامی بلاک میں گھیر لیا گیا۔‘ حملہ آوروں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرا دی، جس سے دروازہ گر گیا اور ملحقہ ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
حکام کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف شروع کیا گیا آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کرلیا گیا ہے۔ایک بیان کے مطابق کیڈٹ کالج پر حملہ کرنے والے تمام حملہ آور مارے گئے ہیں۔ اس کارروائی کے دوران کیڈٹ کالج کے کسی طالب علم یا استاد کو نقصان نہیں پہنچا۔
اس آپریشن میں ایک خودکش بمبار اور چار دیگر عسکریت پسندوں کو ختم کر دیا گیا ہے۔اس سے قبل وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ کلیرنس تھوڑی دیر میں مکمل ہو جائے گی۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے منگل کے روز اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے ضلع وانا میں کیڈٹ کالج کے اندر چھپے دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران تین افراد جان سے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے کامیابی کے ساتھ عمارت سے سبھی کو بچا لیا ہے۔ ’تقریباً 550 طلباء اور تقریباً 40 اساتذہ کالج کے اندر تھے۔ خدا کے فضل سے، ہمارے فوجیوں نے وہاں سب کو بچا لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’دہشت گردوں نے انہیں (کیڈٹس) کو وہاں یرغمال بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن ان کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔’تاہم، علاقے کی کلیئرنس جاری ہے اور تھوڑی دیر میں مکمل ہو جائے گی۔
اپنی میڈیا ٹاک میں محسن نقوی نے کہا کہ ’ہم اس میں بالکل واضح ہیں کہ افغانستان اس پورے حملے میں براہ راست ملوث ہے۔‘یہ بتاتے ہوئے کہ دہشت گردوں کی شناخت افغان کے طور پر ہوئی ہے، وزیر داخلہ نے کہا کہ حملہ آوروں کی ’افغانستان میں اپنے لوگوں کے ساتھ بات چیت بھی پوری رات جاری رہی۔
دوسری جانب ریڈیو پاکستان کے مطابق تین عسکریت پسند ’کالج کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے جنہیں بعد ازاں انتظامی بلاک میں گھیر لیا گیا۔‘ حملہ آوروں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی مرکزی دروازے سے ٹکرا دی، جس سے دروازہ گر گیا اور ملحقہ ڈھانچے کو نقصان پہنچا۔
ریڈیو پاکستان نے آئی ایس پی آر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ’دہشت گردوں نے کالج کی بیرونی سکیورٹی کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے حملہ کیا، تاہم مستعد اور پرعزم اہلکاروں کے بروقت ردِعمل نے ان کے مذموم عزائم ناکام بنا دیے۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ عسکریت پسندوں نے ’ایک بار پھر 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور میں کیے گئے اپنے سفاک فعل کی نقالی کی کوشش کی۔ ان کا مقصد سابقہ قبائلی علاقوں کی نئی نسل کو خوفزدہ کرنا تھا، جو اپنی دہلیز پر معیاری تعلیم حاصل کر کے زندگی میں آگے بڑھنے اور اپنی برادریوں میں مثبت کردار ادا کرنے کی خواہش رکھتی ہے۔
