متحدہ عرب امارات میں جاری ایئر اینڈ میزائل وارفیئر سینٹر ایکسرسائز (ATLC-35) میں شاہی سعودی فضائیہ اور شاہی سعودی فضائی دفاعی فورسز اپنی شاندار صلاحیتوں کے ساتھ سرگرم انداز میں حصہ لے رہی ہیں۔ یہ مشق مشرقِ وسطیٰ کی نمایاں ترین مشترکہ فضائی مشقوں میں شمار کی جاتی ہے، جس میں کئی اتحادی اور دوست ممالک کی افواج بھی شریک ہیں۔
یہ بڑی سطح کی جنگی مشق جدید فضائی اور میزائل دفاعی حکمتِ عملیوں کو بہتر بنانے، آپریشنل منصوبہ بندی اور فوری ردِعمل کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ترتیب دی گئی ہے۔ اس کا مقصد حقیقی جنگی ماحول کی مشق کے ذریعے فضائی جنگ، میزائل حملوں کے انسداد، اور مشترکہ آپریشنز کی تیاری کو مضبوط کرنا ہے۔
سعودی عرب کی نمائندگی کرتے ہوئے شاہی سعودی فضائیہ نے جدید ٹورنیڈو لڑاکا طیارے تعینات کیے ہیں، جن کے تربیت یافتہ پائلٹس اور عملہ مختلف اقسام کی پیچیدہ تربیتی مشقیں انجام دے رہے ہیں۔ ان میں دفاعی و حملہ آور پروازیں، رات کے وقت جنگی مشنز، فضائی ایندھن کی فراہمی، اور جنگی علاقوں سے بچاؤ و ریسکیو آپریشنز شامل ہیں۔
اس مشق میں صرف پائلٹ ہی نہیں بلکہ ٹیکنیکل اور انجینئرنگ ٹیمیں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ٹیمیں طیاروں کی مسلسل جانچ، سسٹمز کی مرمت اور فوری ردِعمل کی تیاری کے ذریعے آپریشنز کو بلاتعطل جاری رکھ رہی ہیں۔
ATLC-35 مشق کا ایک اہم پہلو تعاون، تجربات کے تبادلے اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے عملی استعمال پر مرکوز ہے۔ اس مشق کے ذریعے مختلف ممالک کی افواج کے درمیان کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹمز، کمیونیکیشن نیٹ ورکس، اور آپریشنل ہم آہنگی کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی مشترکہ آپریشن کے دوران باہمی رابطہ اور نظم و ضبط برقرار رہ سکے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق ATLC مشقوں کی یہ سیریز وقت کے ساتھ جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالی گئی ہے، جس میں اب مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خطرات کی نشاندہی، الیکٹرانک وارفیئر، اور ڈرون حملوں کے انسداد جیسے عناصر بھی شامل ہیں۔ ان مشقوں کا مقصد فوجی افسران اور پائلٹس کی فیصلہ سازی، رابطہ کاری، اور ہدف پر درستگی جیسی صلاحیتوں کو مزید نکھارنا ہے۔
سعودی عرب کی ان مشقوں میں شمولیت دراصل ویژن 2030 کے دفاعی اہداف کا حصہ ہے، جس کے تحت مملکت اپنی فوجی طاقت کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے، دفاعی صنعت میں خود انحصاری حاصل کرنے اور اتحادی ممالک کے ساتھ علاقائی امن و استحکام کے لیے تعاون بڑھانے پر عمل پیرا ہے۔
یہ مشقیں محض تربیتی سرگرمی نہیں بلکہ خطے میں دفاعی ہم آہنگی اور عالمی تعاون کا استعارہ ہیں۔ سعودی افواج کے پائلٹس اور انجینئرز کو اس موقع پر مختلف ممالک کے ماہر افسران کے ساتھ کام کرنے، نئی جنگی حکمتِ عملیاں سیکھنے اور تکنیکی تجربات حاصل کرنے کا منفرد موقع ملتا ہے۔
جدید دور میں جب ہوائی دفاع کے خطرات تیزی سے بدل رہے ہیں — جیسے ڈرون حملے، الیکٹرانک جنگ، اور ہائپر سونک میزائلز — ایسے میں اس نوعیت کی مشترکہ مشقیں دنیا کو یہ پیغام دیتی ہیں کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی خطے کے امن، دفاع اور استحکام کے لیے پوری طرح تیار، متحد اور تکنیکی طور پر مضبوط ہیں۔
آخر میں، ATLC-35 مشق کو ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو نہ صرف عسکری پیشہ ورانہ مہارتوں کو بہتر بناتا ہے بلکہ بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ دفاعی عزم کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ مملکتِ سعودی عرب کے اس عزم کی عکاسی ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کا مضبوط ستون بنے رہنے کے لیے جدید ترین دفاعی تربیت اور شراکت داریوں کو مسلسل فروغ دیتی رہے گی۔
