یورپی کمیشن کی سربراہ اُرسولا فون ڈیر لائن نے یورپی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یوکرین کی بڑھتی ہوئی مالی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یورپی یونین کے رکن ممالک کے پاس تین ممکنہ راستے موجود ہیں، اور ان میں سب سے مؤثر اور فوری حل منجمد روسی اثاثوں کا استعمال ہے۔ فون ڈیر لائن کے مطابق، یہ اثاثے روس کی طرف سے یوکرین پر حملوں اور عالمی تنازعات کی وجہ سے منجمد کیے گئے ہیں، اور ان کا استعمال یوکرین کی معیشت اور دفاعی ضروریات کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے متبادل میں یورپی یونین کے بجٹ میں اضافی فنڈز مختص کرنا شامل ہے، جبکہ تیسرا راستہ یہ ہے کہ رکن ممالک خود سرمایہ اکٹھا کرنے پر متفق ہوں۔ تاہم فون ڈیر لائن کے مطابق، سب سے عملی اور فوری حل یہ ہے کہ منجمد روسی اثاثوں کی بنیاد پر یوکرین کو قرض فراہم کیا جائے، جو یوکرین اس وقت واپس کرے گا جب روس مناسب معاوضہ ادا کرے گا۔ اس منصوبے کے تحت یوکرین کو فوری مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ ملک کی دفاعی صلاحیتیں برقرار رہیں اور معیشت مستحکم رہے۔
فون ڈیر لائن نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف یوکرین کی موجودہ مشکلات کو حل کرے گا بلکہ مستقبل میں روس کی ممکنہ جارحیت کے خلاف ایک مضبوط مالی اور دفاعی بنیاد بھی فراہم کرے گا۔ ان کے مطابق، اس منصوبے کے تحت یوکرین کو درکار مالی وسائل بروقت مہیا کیے جائیں گے، جس سے عوامی ضروریات، بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور فوجی دفاعی تیاری میں مدد ملے گی۔
یورپی کمیشن کی یہ تجاویز اس وقت سامنے آئی ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی عالمی سطح پر اقتصادی اور سیاسی اثرات ڈال رہی ہے۔ فون ڈیر لائن نے زور دیا کہ منجمد روسی اثاثوں کے ذریعے قرض کی فراہمی نہ صرف یوکرین کے لیے فوری مالی امداد کا مؤثر ذریعہ ہے بلکہ یہ یورپی یونین کے رکن ممالک کے لیے بھی ایک عملی حل فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے بجٹ یا دیگر مالی وسائل پر زیادہ بوجھ ڈالے بغیر یوکرین کی مدد کر سکیں۔
ماہرین کے مطابق، اگر یہ منصوبہ کامیابی سے نافذ ہو گیا تو یہ عالمی سطح پر قانونی اور مالی پیچیدگیوں کے باوجود ایک تاریخی مثال ہوگی، جس میں جارح ریاست کے منجمد اثاثے ایک متاثرہ ملک کی مدد کے لیے استعمال کیے گئے۔ اس اقدام سے یہ بھی پیغام جائے گا کہ بین الاقوامی قوانین اور اقتصادی پابندیاں جارحیت کے خلاف مؤثر حربہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
