امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ سعودی عرب بہت جلد ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ میں ایک بڑی سفارتی تبدیلی ثابت ہوگا بلکہ خطے میں نئی سیاسی صف بندیوں کا آغاز بھی کرے گا۔ ایئر فورس وَن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آئندہ ہفتے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ہونے والی ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی سے کہیں بڑھ کر ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں سیکیورٹی تعاون، خطے میں بڑھتے ہوئے تنازعات، اور مستقبل کے سیاسی و معاشی اہداف پر گہری مشاورت کی جائے گی۔
صحافی کے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ابراہیمی معاہدوں کو بھی اس سفارتی گفتگو کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سعودی عرب اس تاریخی امن معاہدے میں شامل ہوتا ہے تو یہ نہ صرف امریکہ کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں استحکام، تجارتی روابط اور علاقائی اعتماد سازی کے نئے دروازے کھول دے گا۔ ٹرمپ کے مطابق ’’سعودی عرب کے بغیر مشرقِ وسطیٰ کا کوئی بڑا امن منصوبہ مکمل نہیں ہو سکتا۔‘‘
ملاقات کے ایجنڈے میں دفاعی تعاون بھی نمایاں طور پر شامل ہے۔ صحافیوں کی جانب سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ نے سعودی عرب کو ایف-35 لڑاکا طیارے فروخت کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے؟ اس پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب جدید ترین جنگی طیارے خریدنے کی خواہش رکھتا ہے، اور امریکہ اس کے لیے تیار ہے کیونکہ وہ دنیا کے بہترین اور جدید ترین طیارے اور میزائل نظام تیار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری دفاعی ٹیکنالوجی بے مثال ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ہم نے کیسے ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے مضبوط اقدامات کیے۔
ٹرمپ نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ سعودی عرب نہ صرف ایف-35 بلکہ دیگر جدید دفاعی سسٹمز میں بھی دلچسپی رکھتا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی تعاون کی نئی راہیں کھلنے کی توقع ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ ڈیل کامیاب ہوئی تو یہ خطے میں طاقت کے توازن پر گہرے اثرات مرتب کرے گی، جبکہ سعودی عرب کی فضائی قوت مزید مضبوط ہو جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اس ڈیل کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے ساتھ ساتھ چین اور روس کے بڑھتے ہوئے کردار کا بھی مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔
سعودی ولی عہد اور ٹرمپ کی ملاقات کو خطے کی بدلتی ہوئی جیو اسٹریٹیجک صورتحال کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سفارتی اور دفاعی دور کی بنیاد رکھ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح تک محسوس کیے جائیں گے۔
