اسرائیلی سیاست میں گزشتہ دنوں ایک نئی کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت کے اندر موجود دو انتہائی قدامت پسند اور سخت گیر وزراء نے فلسطینی ریاست کو عالمی سطح پر دی جانے والی بڑھتی ہوئی حمایت کے خلاف نہ صرف سخت مؤقف اختیار کیا بلکہ وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ دونوں وزراء — بزلیل سموٹریچ اور ایت مار بن گوئیر — طویل عرصے سے ایسے کسی بھی عمل کی مخالفت کرتے رہے ہیں جو فلسطینیوں کے لیے علیحدہ ریاست کی راہ ہموار کرے، مگر اس مرتبہ عالمی سیاست میں آنے والی تازہ پیش رفت نے ان کے لب و لہجے کو مزید سخت اور مطالبات کو زیادہ جارحانہ بنا دیا ہے۔
بزلیل سموٹریچ کا کہنا ہے کہ جب چند ممالک نے یک طرفہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا تو نیتن یاہو نے ملک کے عوام کو یقین دلایا تھا کہ وہ ایسے اقدامات کا مضبوط جواب دیں گے۔ لیکن ان کے مطابق، اس اعلان کو دو ماہ سے زیادہ وقت گزر چکا ہے اور وزیرِ اعظم کی طرف سے نہ کوئی فیصلہ سامنے آیا اور نہ کوئی واضح احتجاج۔ وہ اسے اسرائیل کے لیے نقصان دہ سیاسی خاموشی قرار دیتے ہیں، جس نے بیرونی دنیا کے سامنے ملک کی پوزیشن کمزور دکھائی ہے۔ سموٹریچ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اگر اب کوئی فوری اور سخت کارروائی نہ کی گئی تو دنیا یہ سمجھے گی کہ اسرائیل اندرونی طور پر کمزور ہو چکا ہے اور دو ریاستی حل کے حوالے سے بین الاقوامی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار ہے۔ اسی لیے وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ نیتن یاہو فوراً واضح اعلان کریں کہ اسرائیل کبھی بھی کسی فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کرے گا۔
اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے ایت مار بن گوئیر نے اپنے روایتی جارحانہ انداز میں کہا کہ فلسطینی قوم کی حیثیت تاریخی طور پر ثابت شدہ نہیں اور ان کے بقول، "فلسطینی ریاست” کا تصور اسرائیل کے وجود کے خلاف ایک خطرہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں کو ریاست دینا دراصل ان گروہوں کو انعام دینے کے مترادف ہے جنہیں وہ "دہشت گردی” کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ بن گوئیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی جماعت ایسی کسی سرکاری اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی جو فلسطینی ریاست کے اعتراف کے لیے اپنے دروازے کھولے۔ انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کا واحد قابلِ عمل حل یہ ہے کہ وہاں موجود آبادی کو "رضاکارانہ منتقلی” کی طرف مائل کیا جائے — ایک ایسا مؤقف جو بین الاقوامی سطح پر سخت متنازع سمجھا جاتا ہے۔
یہ دونوں وزراء پہلے بھی مغربی کنارے پر اسرائیلی بستیوں کے توسیعی منصوبوں کی حمایت کرتے آئے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق سموٹریچ نے ایک بڑے رہائشی منصوبے کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت مغربی کنارے کے مختلف حصوں میں نئی بستیاں قائم کی جائیں گی۔ ان کے نزدیک، زمینی حقائق کو تبدیل کیے بغیر فلسطینی ریاست کی راہ روکی نہیں جاسکتی، اس لیے انہیں یقین ہے کہ عملاً ایسے اقدامات فلسطینی ریاست کے خیال کو کمزور کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ ان کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ اگر اسرائیل نے زمینی سطح پر اپنی موجودگی مزید مضبوط نہ کی تو مستقبل میں عالمی طاقتیں اسے مجبور کر سکتی ہیں کہ وہ دو ریاستی حل کو قبول کرے۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آرہی ہے جب اقوامِ متحدہ کے ایک اہم حصے نے فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کیا ہوا ہے اور عالمی سطح پر اس کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے ممالک نے گزشتہ سال کے سفارتی اجلاسوں کے دوران اپنی حمایت کا اعلان کیا تھا، بالخصوص اس وقت جب غزہ پر جنگ جاری تھی اور انسانی بحران اپنے عروج پر تھا۔ فلسطینی ریاست کے لیے بڑھتی ہوئی عالمی ہمدردی نے اسرائیل کے اندرونی سیاسی حلقوں میں تقسیم کو مزید نمایاں کر دیا ہے، خصوصاً دائیں بازو کے گروہوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے جو اسے اسرائیل کے مستقبل کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
اس کے برعکس، نیتن یاہو کی پوزیشن خاصی پیچیدہ دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ ان کی لیکود پارٹی تاریخی طور پر مغربی کنارے کے الحاق کی حامی رہی ہے، مگر بین الاقوامی دباؤ اور امریکہ کی سخت مخالفت کے بعد انہوں نے پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے دو بلوں کی حمایت واپس لے لی تھی جن کا تعلق الحاق کے عمل سے تھا۔ یہ فیصلہ سموٹریچ اور بن گوئیر دونوں کے لیے ناقابلِ قبول تھا اور وہ اسی وقت سے نیتن یاہو سے ناراض ہیں۔
یہ پورا منظرنامہ اسرائیل کے اندر بڑھتے ہوئے سیاسی انتشار کی ایک بڑی مثال کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایک طرف عالمی برادری کی بڑی تعداد فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیلی حکمران اتحاد کے اندر اختلافات اس حد تک شدید ہو چکے ہیں کہ مستقبل میں حکومت کے ٹوٹنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اسرائیل کے سیاسی افق پر ایک نئی کشمکش جنم لے چکی ہے جس کا اثر نہ صرف ملکی سیاست بلکہ خطے کی مستقبل کی صورتحال پر بھی پڑ سکتا ہے۔
