اسرائیلی افواج نے اتوار کے روز وسطی مغربی کنارے کے صوبہ سلفیت میں واقع فلسطینی قصبے دیر إستیا کے قریب ایک اور جارحانہ کارروائی کرتے ہوئے زیتون کے درجنوں درخت جڑ سے اکھاڑ دیے، جس سے مقامی فلسطینی کسانوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ زرعی ڈائریکٹوریٹ سلفیت کے سربراہ ابراہیم حماد کے مطابق اسرائیلی فوج نے تین فلسطینی کسانوں کی ملکیتی کم از کم 135 زیتون کے درخت تباہ کیے، جن کی عمر سات سال سے بھی زیادہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ وادی قانا کے علاقے میں زرعی اراضی کے خلاف اسرائیلی افواج کی جاری منظم خلاف ورزیوں کا حصہ ہے، جہاں عرصے سے کھیتوں، درختوں اور ملکیتی زمینوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کی حالیہ رپورٹ بھی صورت حال کی سنگینی کو واضح کرتی ہے، جس کے مطابق مئی سے اب تک اسرائیلی افواج اور آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کی فصلوں، املاک اور آبادی پر 2,350 حملے کیے گئے۔ ان میں 1,584 حملوں کی ذمہ داری اسرائیلی فوج جبکہ 766 حملوں میں آبادکار ملوث تھے۔ سب سے زیادہ حملے رملہ و البیرۃ (542)، نابلس (412) اور ہیبرون (401) میں ریکارڈ کیے گئے۔ ان کاروائیوں میں فلسطینیوں پر جسمانی تشدد، درختوں کی تباہی، کھیتوں کو نذرِ آتش کرنا، زیتون چننے والوں کو تشدد یا دھمکی کے ذریعے روکنا، زمینوں پر قبضہ اور گھروں و زرعی مقامات کی مسماری شامل تھیں۔
ان حملوں کے نتیجے میں ہزاروں فلسطینی خاندان، جو اپنی روزی روٹی کے لیے زیتون کی کٹائی پر انحصار کرتے ہیں، شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ 2023 کے اواخر سے آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، اسرائیلی فوج کی جانب سے کھیتوں تک رسائی کی پابندیوں اور زمین پر قبضے کی کارروائیوں نے فلسطینی زراعت اور معاشی بقا کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ صرف گزشتہ ہفتے اسرائیلی افواج نے قلقیلیہ کے مشرقی حصے میں حفاظتی باڑ تعمیر کرنے کے لیے زرعی زمین ضبط کرنے اور زیتون کے درختوں کو اکھاڑ پھینکنے کے دو نئے فوجی احکامات بھی جاری کیے، جو فلسطینی زمینوں پر دباؤ بڑھانے کی تازہ مثال ہے۔
یہ واقعات نہ صرف زرعی نقصان کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں بلکہ فلسطینی معاشرے کی معاشی بنیادوں کو منظم طریقے سے کمزور کرنے کی ایک وسیع تر پالیسی کی عکاسی بھی کرتے ہیں، جس کے اثرات خطے کی سیاسی و انسانی صورتحال پر گہرے پڑ رہے ہیں۔
