ملک میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے تناظر میں قومی ادارۂ صحت نے ایک تازہ اور جامع انتباہ جاری کیا ہے جس میں اسموگ کو آئندہ موسمِ سرما کا سب سے بڑا صحت عامہ کا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ نومبر سے لے کر فروری تک فضا میں جمع ہونے والے دھوئیں، گرد اور کیمیکلز کا اثر سردی کے ساتھ مل کر ایسی صورتحال پیدا کرتا ہے جس سے سانس کی بیماریوں، دل کے مسائل، الرجی، کھانسی، نمونیا اور مختلف انفیکشنز میں تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔
ایڈوائزری میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ اسموگ صرف طبی مسئلہ نہیں بلکہ معاشرتی، ماحولیاتی اور معاشی چیلنج بھی ہے۔ جب فضا میں آلودگی بڑھتی ہے تو شہروں کی روزمرہ سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں، ٹریفک کی روانی میں کمی، کاروباری سرگرمیوں کی سست روی اور اسپتالوں میں مریضوں کے بوجھ میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان کمزور طبقوں کو ہوتا ہے، خصوصاً بچے، معمر افراد، حاملہ خواتین اور وہ تمام لوگ جنہیں پہلے سے دمہ، الرجی یا دل کی بیماریاں لاحق ہوں۔
ادارے نے وفاقی اور صوبائی سطح پر صحت کے تمام مراکز، ماحولیاتی محکموں، ایمرجینسی یونٹس اور پبلک ہیلتھ ماہرین کو ہدایت کی ہے کہ اس موسم میں اسموگ سے متعلقہ کیسز کے ممکنہ اضافے کے لیے پیشگی حکمتِ عملی تیار کریں۔ خاص طور پر اسپتالوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سانس کی تکالیف، نمونیا، اور چیسٹ انفیکشنز کے مریضوں کے لیے آلات، دوائیں اور تربیت یافتہ عملہ تیار رکھا جائے۔
مزید یہ کہ پنجاب کے بڑے شہر—لاہور، ملتان، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور اسلام آباد—زیادہ سنگین خطرے کا شکار قرار دیے گئے ہیں۔ لاہور میں فضائی معیار مسلسل غیرمعمولی حد تک خراب رپورٹ ہونے کے باعث شہریوں کو خصوصی ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے پرہیز کریں، کم از کم PM2.5 فلٹر والے ماسک کا استعمال یقینی بنائیں اور بچوں کو صبح سویرے یا شام کے وقت باہر کھیلنے سے روکیں کیونکہ ان اوقات میں آلودگی اپنی بلند ترین سطح پر ہوتی ہے۔
ایڈوائزری میں عوام کے لیے چند اہم احتیاطی مشورے بھی شامل کیے گئے ہیں:
- گھروں میں کھڑکیاں کم کھولی جائیں تاکہ آلودہ ہوا اندر داخل نہ ہو۔
- آنکھوں اور گلے میں جلن محسوس ہو تو فوری طور پر پانی کا استعمال بڑھایا جائے۔
- گاڑیوں کے دھوئیں اور کھلے میں کچرا جلانے جیسی سرگرمیوں کو سختی سے ترک کیا جائے تاکہ مجموعی فضائی معیار میں بہتری آسکے۔
- انڈور ایئر پیوریفائر، نمی برقرار رکھنے والے آلات اور گھر میں پودوں کا استعمال فضا کو بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔
اس کے علاوہ قومی ادارۂ صحت نے متعلقہ اتھارٹیز کو یاددہانی کروائی ہے کہ اسموگ سے نمٹنے کے لیے اطمینان بخش اقدامات، جیسے کہ انڈسٹری کے اخراج کی مانیٹرنگ، دھوئیں پر قابو پانا، فصلوں کی باقیات کو جلانے سے روکنا، اور شہریوں کو باقاعدہ آگاہی دینا بہت ضروری ہے تاکہ آئندہ نسلوں کو ماحول دوست اور صحت مند فضا فراہم کی جاسکے۔
