تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پیر کو ضمنی انتخابات کو ایک واضح عوامی عدم اعتماد کا ریفرنڈم قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں ہونے والا ٹرن آؤٹ صوبے کی تاریخ کی سب سے کم سطح پر پہنچ گیا، جو انتخابی نظام اور عمل کے خلاف عوام کے گہرے عدم اعتماد کا واضح اشارہ ہے۔ میڈیا سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ الیکشن کا شفاف انعقاد یقینی بنانا الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے، مگر جب سیاسی جماعتوں کو جلسے، جلوس اور انتخابی مہم کے بنیادی وسائل تک رسائی ہی نہ دی جائے تو ایسے حالات میں منصفانہ مقابلہ ممکن نہیں رہتا۔
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی انتخابات کی شفافیت اور عوامی جمہوری حقوق پر یقین رکھتی ہے، تاہم پنجاب میں جاری انتخابی عمل میں جو عدم توازن اور پابندیاں عائد کی گئیں وہ قابلِ قبول نہیں۔ ان کے بقول یہی ناہموار حالات وہ وجہ بنے جن کے تحت پی ٹی آئی نے پنجاب میں بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا، جبکہ ہری پور کو مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک نسبتاً ‘لیول پلیئنگ فیلڈ’ موجود تھا اور وہاں جلسے، جلوس اور مہمات جاری رہیں۔
این اے-18 (ہری پور) کے حوالے سے بیرسٹر گوہر نے جاری نتائج پر سخت تحفظات کا اظہار کیا اور دعویٰ کیا کہ جو نتائج دکھائے جا رہے ہیں وہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس حلقے کے نتائج شفاف طریقے سے دوبارہ جانچے جائیں یا ایسے طریقہ کار اپنائے جائیں جو ووٹرز کے حقیقی ارادے کی عکاسی کریں۔ این اے-18 میں پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے بابر نواز خان اور پیپلز پارٹی کی ارم فاطمہ کے درمیان سخت مقابلہ متوقع تھا، جب کہ اس میں مزید چھ آزاد امیدوار بھی میدان میں تھے، جس نے حلقے کی سیاسی کشمکش اور نتیجوں کی غیر یقینی کیفیت کو مزید بڑھا دیا۔
ماہرینِ سیاست کے مطابق اگرچہ کم ٹرن آؤٹ کو کئی عوامل سے جوڑا جا سکتا ہےمثلاً ہوا میں خوف و ہراس، مہمات کی پابندی، عوامی مایوسی یا موسم و سماجی حالات مگر بیرسٹر گوہر کی تنقید سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ اپوزیشن، کم از کم پی ٹی آئی، الیکشن کے طریقۂ کار اور مواقع کی مساوات پر سوال کھڑے کر رہی ہے۔ اس صورتحال کے سیاسی نتائج بھی طویل المدتی ہوسکتے ہیں: کم شرکت امیدواروں کی قانونی اور اخلاقی پزیرائی کو متاثر کرتی ہے اور حکومتی مینڈیٹ پر شکوک پیدا کرتی ہے۔
اب تک پی ٹی آئی کی جانب سے جو اعداد و شمار ظاہر کیے گئے ہیں وہ پارٹی کی داخلی معلومات پر مبنی ہیں اور ان دعوؤں کی آزادانہ توثیق کے لیے الیکشن کمیشن یا تیسری فریق کی جانب سے شفاف سماعت یا ری کنڈکٹ کی درخواستیں منظر عام پر آ سکتی ہیں۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی دھاندلی کے الزام کے بجائے عوامی سیاست اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے، اس لیے پارٹی آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں عوام اور مقامی قیادت کے ساتھ مشاورت کرے گی۔
نتیجتاً، این اے-18 کا معرکہ اور پنجاب میں کم ٹرن آؤٹ کا معاملہ نہ صرف مقامی سیاسی منظرنامے کو متاثر کرے گا بلکہ عمومی طور پر ملک میں انتخابات کی شفافیت، اداروں کے کردار اور عوامی اعتماد کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتا رہے گا۔ مزید پیش رفت اور اگر الیکشن کمیشن یا متعلقہ فریقین کی جانب سے باضابطہ بیانات یا کارروائیاں سامنے آئیں تو ان کی روشنی میں صورتحال واضح ہو سکے گی۔
