ایرانی ماہر ڈاکٹر محمدی سیرت نے انکشاف کیا ہے کہ لبنان، عراق اور یمن میں سرگرم مزاحمتی گروہوں کے تنظیمی اور عسکری ڈھانچے ایران کی بسیج فورس سے حیران کن حد تک مشابہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی فوج کے تقریباً 30 فیصد اہلکار بیک وقت حزب اللہ کا حصہ بھی ہیں، جو صبح لبنانی فوج کی وردی میں اپنے فرائض انجام دیتے ہیں جبکہ شام کو حزب اللہ کے جنگجو کے طور پر متحرک ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دوہرا نظام خطے میں ایرانی ماڈل کی گہری رسائی اور نفوذ کو ظاہر کرتا ہے۔
ڈاکٹر سیرت نے مزید بتایا کہ عراق میں الحشد الشعبی اور اس سے منسلک کئی گروہ بھی ایرانی بسیج فورس کے ماڈل پر قائم و متحرک ہیں، جبکہ یمن میں حوثیوں کا جنگی و تنظیمی انداز بھی اسی سانچے سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق مزاحمتی گروہوں اور ایرانی بسیج کے درمیان یہ ”باہمی ربط“ اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ دونوں ایک ہی فکری دھارے کا تسلسل دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی بسیج صرف ایک نیم فوجی ادارہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر ریاستی نیٹ ورک ہے جو سرکاری ڈھانچوں، تعلیمی اداروں، جامعات اور انتظامی نظام تک اثرانداز ہوتا ہے۔ ایران کے اندر یہ فورس نہ صرف ریاستی بیانیہ مضبوط کرتی ہے بلکہ احتجاج اور بغاوت کے وقت داخلی سیکیورٹی کا اہم ترین ستون بن کر سامنے آتی ہے۔
ڈاکٹر سیرت کے مطابق رہبرِ اعلیٰ کے حالیہ خطاب نے بسیج کے تصور کو ایک نئی مذہبی، عسکری اور نظریاتی تعبیر دے دی ہے، جس کے نتیجے میں بسیج اور محورِ مزاحمت اب ایک عالمی ماڈل کی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پاسدارانِ انقلاب کے زیرانتظام بسیج کی حزب اللہ، الحشد الشعبی اور حوثیوں کے ساتھ مماثلت دراصل ”ایک نئی خطے گیر روایت“ کو جنم دے رہی ہے، جو مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی و عسکری صورتحال کو طویل مدت تک متاثر کرے گی
