دوحہ :خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نےایک غیرمعمولی اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنے دفاعی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلی کے قریب ہیں، جہاں چھوں ممالک نے مل کر پورے خطے کے تحفظ کے لیے ایک مشترکہ خلیجی آئرن ڈوم تشکیل دینے پر عملی پیش رفت شروع کر دی ہے۔
منامہ میں میڈیا کے ساتھ خصوصی نشست کے دوران البدیوی نے بتایا کہ رکن ممالک نے میزائل حملوں سے نمٹنے کے لیے جدید ’’میزائل شیلڈ‘‘ سسٹمز تیار کرنے والی عالمی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات تیز کر دیے ہیں، اور توقع ہے کہ جلد اس منصوبے پر حتمی سمجھوتہ سامنے آ جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ 46 ویں سربراہ اجلاس میں مشترکہ دفاع، علاقائی سلامتی اور تازہ ترین جغرافیائی تبدیلیاں سب سے اہم موضوعات ہوں گےخصوصاً وہ دو حملے جنہوں نے قطر کی سلامتی کو چیلنج کیا اور خلیجی اتحاد کو ایک نئی سطح پر متحد کیا۔
البدیوی کے مطابق خلیجی وزرائے دفاع کے ہنگامی اجلاس میں پہلے ہی خطے کی حفاظت کے لیے ایک جامع دفاعی حکمتِ عملی پر اتفاق ہو چکا ہے، جس پر عمل درآمد قطر میں ہونے والی مشترکہ دفاعی کونسل کے فیصلوں کے مطابق تیزی سے جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خلیجی ممالک ایک دوسرے کی سلامتی کو اپنی سلامتی سمجھتے ہیں، اور ایران کے ساتھ تعلقات کو احترامِ ہمسائیگی اور عدم مداخلت کی بنیاد پر آگے بڑھانا چاہتے ہیں، کیونکہ خلیجی امن، طاقت اور اتحاد اب ایک ناقابلِ تقسیم حقیقت بن چکے ہیں۔
ر
