خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے 46 ویں سربراہ اجلاس میں شریک رہنماؤں نے واضح کیا کہ خطے کے تمام ممالک کی خود مختاری کا احترام بنیادی اصول ہے، اور کسی بھی ریاست کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ صرف ناقابل قبول ہے بلکہ پورے خلیجی اتحاد کے اجتماعی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ قائدین نے زور دیا کہ جی سی سی کے رکن ممالک کا تحفظ، امن اور خودمختاری مشترکہ اور ناقابل تقسیم ہے، اس لیے کسی ایک ملک کا نقصان پوری خلیجی سلامتی کو متاثر کر سکتا ہے۔
اجلاس میں عالمی سطح پر تعاون کا دائرہ مزید وسیع کرنے، دوست ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے اور پائیدار ترقی کے ایجنڈے کو سپورٹ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ رہنماؤں نے دہشت گردی، شدت پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور سرحد پار جرائم کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کے عزم کو بھی دہرایا۔ بحرین میں قائم مشترکہ بحری فورسز کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے توانائی کے تحفظ، سمندری تجارتی راستوں کی سلامتی اور عالمی تجارت کے بہاؤ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ کو جوہری اور دیگر تباہ کن ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جی سی سی رہنماؤں نے شرم الشیخ سربراہ اجلاس کے نتائج کا خیر مقدم کیا اور غزہ میں جنگ بندی کے سمجھوتے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کی۔ انہوں نے فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد، تعمیر نو میں معاونت اور 4 جون 1967 کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو خطے کے دیرپا امن کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
قائدین نے بحرین کو آئندہ دو برسوں کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں عرب گروپ کی نمائندگی ملنے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی امن و مکالمے میں ایک مؤثر شراکت دار قرار دیا۔ اجلاس میں خلیجی مشترکہ تعاون کے سفر میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ لیتے ہوئے دفاعی، سکیورٹی، سفارتی اور اقتصادی میدانوں میں اتحاد کی مضبوطی پر مکمل اطمینان ظاہر کیا گیا۔
رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی میدانوں میں مزید ہم آہنگی، اتحاد اور یکجہتی کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کی جائیں گی، تاکہ خطے میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کو مزید تقویت ملے۔ اجلاس کے اعلامیے میں ادارہ جاتی تعاون کے فروغ، تزویراتی اتحاد اور برادرانہ یکجہتی کو مضبوط کرنے کے ساتھ خطے کے پائیدار مستقبل کے لیے جامع وژن اپنانے پر زور دیا گیا۔
اقتصادی محاذ پر سعودی مشترکہ منڈی، کسٹم یونین، تجارت، سیاحت اور تزویراتی سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا، جبکہ نقل و حمل، توانائی، مواصلات، پانی، خوراک اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ای کامرس، مشترکہ ادائیگی کے نظام، کلاؤڈ سروسز اور سائبر سکیورٹی کے شعبوں میں بھی تعاون کے نئے راستے کھولنے پر اتفاق ہوا۔ اجلاس نے ماحولیات کے تحفظ، کاربن کے اخراج میں کمی اور صاف توانائی کے منصوبوں کے فروغ پر بھی زور دیا۔
اختتام پر خلیجی قائدین نے اٹلی کی وزیر اعظم جورجیا میلونی کی اجلاس میں شرکت کو سراہا اور خلیجی ممالک اور اٹلی کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کیا
