اسلام آباد: حکومت نے سیاسی کشیدگی کے باوجود پارلیمنٹ کے فورم سے ایک مرتبہ پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو مذاکرات کی باضابطہ اور کھلی پیشکش کر دی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایوانِ بالا میں دو ٹوک انداز میں کہا کہ آج بھی مذاکرات کا دروازہ پوری طرح کھلا ہے، آئیں،بیٹھ کر بات کریں، ملک کو ڈیڈلاک نہیں مکالمہ آگے لے کر جاتا ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر مشال یوسفزئی کی جانب سے اٹھائے گئے نکتہ اعتراض کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حکومت نے اپنی جانب سے مکمل سیاسی برداشت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نہ صرف پارلیمنٹ کے فلور پر بلکہ مختلف مواقع پر بھی پی ٹی آئی کو مذاکرات کی کھلی دعوت دی، یہاں تک کہ یہ بھی کہا کہ اگر آپ چاہیں تو اسپیکر کے چیمبر میں بیٹھ جائیں، میں خود وہاں آکر بات کرنے کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے بتایا کہ 14 اگست کو بھی وزیراعظم نے میثاقِ استحکامِ پاکستان کی پیشکش کی تھی تاکہ ملکی معیشت، سیاسی استحکام اور جمہوری عمل کو مضبوط بنیاد فراہم کی جاسکے۔ لیکن اس کے جواب میں پی ٹی آئی قیادت نے مسلسل عدم تعاون کا مظاہرہ کیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی قیادت خود بارہا اعلان کر چکی ہے کہ وہ حکومت سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کرنا چاہتی، جبکہ جن ’تھرڈ پارٹی‘ شخصیات سے وہ رابطہ کرنے کی بات کرتے ہیں وہ شخصیات بھی کھل کر کہہ چکی ہیں کہ وہ پی ٹی آئی سے بات کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس تضاد نے پی ٹی آئی کو سیاسی تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے حوالے سے رانا ثناء اللہ نے اہم انکشاف کیا کہ تین روز قبل بانی پی ٹی آئی سے باقاعدہ ملاقات کروائی گئی، مگر جیل سے واپسی کے بعد انہوں نے جو بیانیہ دیا وہ حقیقت کے برعکس اور غیر ذمہ دارانہ تھا، جو پوری قوم نے براہ راست سنا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کسی بھی قیدی کو ایسی ملاقاتوں کی اجازت نہیں دے سکتی جن کے نتیجے میں ریاست مخالف تحریک چلانے، انتشار پھیلانے یا افراتفری کا اعلان ہو۔ یہ نہ قانون اجازت دیتا ہے نہ آئین۔
مشیر سیاسی امور نے کہا کہ حکومت سیاسی محاذ آرائی کو ختم کرنا چاہتی ہے اور ملکی مفاد کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ہم آج بھی کہتے ہیں کہ آئیں بیٹھیں،بات کریں۔ سیاست لڑائی سے نہیں، عقل اور مکالمے سے آگے بڑھتی ہے۔انہوں نے ایوانِ بالا میں یہ واضح پیغام دیا کہ اگر پی ٹی آئی سنجیدہ ہو تو حکومت ہر معاملے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔
