شام بھر میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کی پہلی سالگرہ جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہےوہ دن جس نے 53 سالہ اسدی اقتدار پر آخری مہر لگا دی۔ 2011 میں بھڑکنے والی عوامی بغاوت کا بارہ سالہ سفر آخرکار 8 دسمبر 2024 کو فیصلہ کن ثابت ہوا، جب اپوزیشن فورسز نے دمشق پر کنٹرول حاصل کیا اور بشارالاسد اپنے خاندان سمیت روس فرار ہوگئے، جہاں انہیں سیاسی پناہ مل گئی۔
اس تاریخی تبدیلی نے نہ صرف شام کی سیاسی فضا بدل دی بلکہ خطے کی سفارتی بساط بھی ہلا دی، خصوصاً ایران کے لیے یہ ایک بڑا اسٹریٹجک دھچکا تھا، کیونکہ شام طویل عرصے سے تہران کے لیے حزب اللہ تک اسلحہ پہنچانے کا مرکزی راستہ رہا تھا۔ سالگرہ کے موقع پر جہاں ملک کے کئی حصوں میں جشن کا ماحول ہے، وہیں علوی برادری کے معروف عالم دین غزال نے تقریباً غم و غصے کے اظہار کے طور پر اپنی برادری کو تقریبات کے بائیکاٹ اور 8 سے 12 دسمبر تک ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ دوسری جانب شمالی و مشرقی شام کی کرد انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر
دی ہے۔ نئی شامی قیادت نے بین الاقوامی تعلقات میں غیر جانب دارانہ پالیسی اپنائی ہے اور صدر احمد الشرع نے دوحہ فورم میں خطاب کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال میں اسرائیل نے شام پر ایک ہزار سے زائد فضائی حملے اور 400 بار زمینی دراندازی کی—اور مزید خبردار کیا کہ اسرائیل کا جنوبی شام میں ’’حفاظتی زون‘‘ کا منصوبہ پورے خطے کو خطرناک موڑ پر لے جا سکتا ہے۔
