اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ کی جانب سے ایف-16 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن کے لیے 68.6 کروڑ ڈالر مالیت کی منظوری کو دونوں ممالک کے معمول کے دفاعی تعاون کا حصہ قرار دیتے ہوئے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) نے کانگریس کے نام خط میں اس اہم دفاعی منظوری سے آگاہ کیا، جو پاکستان کی فضائی صلاحیتوں کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔
امریکی پیکیج کے تحت پاکستان کے ایف-16 بیڑے میں ایویانکس اپ گریڈ، لنک-16 ڈیٹا لنک سسٹم، جدید کرپٹوگرافک ٹیکنالوجی، تربیتی ماڈیولز اور طویل مدتی لاجسٹک سپورٹ شامل ہوگی۔ یہ اپ گریڈیشن پاکستان کے بلاک-52 اور مڈ لائف اپ گریڈ (MLU) ایف-16 طیاروں کی عملی عمر بڑھا کر 2040 تک لے جانے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔
پاکستانی فضائیہ کے پاس اس وقت 70 سے 80 ایف-16 موجود ہیں، جن میں سے ابتدائی طیارے 1980 کی دہائی میں امریکا سے حاصل کیے گئے تھے۔ 2021 میں پاکستان نے ایف-16 اپ گریڈیشن کی درخواست دی تھی، جو بعد ازاں سیاسی و سفارتی تناؤ کے باعث مؤخر رہی، تاہم اب نئے ماحول میں یہ منصوبہ دوبارہ آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ڈی ایس سی اے کے مطابق، یہ فیصلہ امریکہ کے قومی سلامتی کے اہداف کے عین مطابق ہے اور اس سے پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں امریکا اور اتحادی افواج کے ساتھ مؤثر تعاون جاری رکھ سکے گا۔ خط میں واضح کیا گیا کہ اس فروخت سے خطے کے فوجی توازن پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جبکہ پاکستان اس جدید ٹیکنالوجی کو جذب کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
پیکیج میں سے 37 ملین ڈالر بڑے دفاعی آلات جبکہ 649 ملین ڈالر مختلف سسٹمز اور سپورٹ پر خرچ ہوں گے۔ ایف-16 بنانے والی کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کو اس منصوبے کا مرکزی کنٹریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس اپ گریڈ کے لیے امریکہ کی جانب سے اضافی حکومتی یا کنٹریکٹر اہلکار پاکستان بھیجنے کی ضرورت نہیں ہوگی، اور نہ ہی اس سے امریکی دفاعی تیاریوں پر کوئی اثر پڑے گا۔
پاکستانی خارجہ دفتر کا کہنا ہے کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کی مضبوطی کا واضح ثبوت ہے اور پاکستان اپنی فضائی قوت کو جدید بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ شراکت داری جاری رکھے گا۔
