یمن کے مشرقی علاقوں حضرموت، شبوہ اور المہرہ میں جنوبی عبوری کونسل کی یکطرفہ کارروائیوں اور آئینی و ریاستی اداروں کے دائرہ کار سے تجاوز کے بعد سعودی عرب نے صورتحال کو پرسکون کرنے اور تنازع کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے ہیں۔ سعودی عرب نے بحران کے فوراً بعد میجر جنرل ڈاکٹر محمد القحطانی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد حضرموت بھیجا، جس نے المکلا شہر اور ساحلی اضلاع میں عبوری کونسل سے وابستہ افواج کے انخلا اور مقامی اتھارٹی کے تحت ریاستی اداروں کے مکمل کنٹرول پر زور دیا۔
سعودی عرب نے واضح کیا کہ عبوری کونسل کے یہ یکطرفہ اقدامات عبوری مرحلے کے ضابطوں کی خلاف ورزی اور جائز حکومت کی اتھارٹی کو کمزور کرنے کے مترادف ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق، یہ اقدامات یمن میں سیاسی استحکام اور امن کی کوششوں کے لیے خطرہ ہیں اور ملک میں جاری تنازعات کو طول دینے کے ساتھ ساتھ ایران کی حمایت یافتہ حوثی گروپ کے لیے مواقع فراہم کر سکتے ہیں۔ سعودی اقدامات، یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کی انتباہات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، جنہوں نے آزاد کرائے گئے علاقوں میں کسی بھی یکطرفہ کارروائی کی ممانعت کی ہدایت دی ہے۔
سعودی وفد نے پیٹرومسیلا کمپنی میں تیل کی پیداوار کے تسلسل کے لیے ابتدائی فارمولہ طے کیا، جس کے مطابق عبوری کونسل کی افواج انخلا کریں گی اور مقامی افواج صوبائی انتظام کے تحت کنٹرول سنبھالیں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رہ سکے گی بلکہ مشرقی یمن میں اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔ میجر جنرل القحطانی نے واضح کیا کہ حضرموت استحکام اور ترقی کے لیے بنیادی ستون ہے اور اسے کسی بھی فوجی یا یکطرفہ اقدام کا میدان نہیں بنایا جائے گا۔
یمنی ایوان نمائندگان نے سعودی عرب کی کوششوں کو سراہا اور عبوری کونسل کی نقل و حرکت کو صدارتی قیادت کے اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے فوری فوجی اقدامات کی منسوخی کا مطالبہ کیا۔ سعودی عرب نے زور دیا کہ مشرقی یمن میں عوامی مطالبات کا احترام پرامن اور مؤثر راستوں کے ذریعے ہونا چاہیے اور اقتصادی و ترقیاتی ترجیحات کو اختلافات پر فوقیت دی جائے، تاکہ یمن میں طویل مدتی استحکام، امن اور خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ واضح ہے کہ سعودی عرب کی یہ سفارتی اور عسکری مداخلت نہ صرف یمن میں عبوری کونسل کی یکطرفہ کارروائیوں کو روکنے کی کوشش ہے بلکہ اس کا مقصد مشرقی یمن میں سیاسی، اقتصادی اور سماجی استحکام کی راہ ہموار کرنا اور ملک میں جامع سیاسی حل کی حمایت کرنا بھی ہے۔ سعودی عرب اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ پرامن اور مؤثر اقدامات کے ذریعے یمن کے عوام کے جائز حقوق کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور طاقت کے ذریعے نئی حقیقت مسلط کرنے کی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے۔
