پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری ایک بار پھر ایک مشکل سال کے لیے خود کو تیار کر رہی ہے، کیونکہ ملکی سطح پر کپاس کی پیداوار میں نمایاں کمی کے باعث خام مال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر درآمدات ناگزیر ہوتی جا رہی ہیں۔ صنعت سے وابستہ حلقوں، مالیاتی ماہرین اور سرکاری اعداد و شمار سب اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ موجودہ سیزن میں کپاس کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان کو تقریباً ستر لاکھ گانٹھیں بیرونِ ملک سے منگوانا پڑ سکتی ہیں تاکہ ٹیکسٹائل ملز کی پیداوار متاثر نہ ہو۔
پاکستان سینٹرل کاٹن کمیٹی کے مطابق دسمبر کے وسط تک ملک بھر میں کپاس کی آمد تقریباً تریپن لاکھ گانٹھوں تک محدود رہی، جبکہ ہر گانٹھ کا وزن اوسطاً ایک سو ستر کلوگرام کے قریب ہے۔ یہ پیداوار اس ہدف سے کہیں کم ہے جو سال کے آغاز میں مقرر کیا گیا تھا۔ اپریل میں وفاقی کمیٹی برائے زراعت نے اندازہ لگایا تھا کہ رواں سال پاکستان ایک کروڑ سے زائد گانٹھیں پیدا کرے گا، مگر سیزن آگے بڑھنے کے ساتھ یہ واضح ہوتا گیا کہ یہ اندازہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مارکیٹ کے ماہرین اور کاٹن انڈسٹری سے وابستہ افراد اب یہ سمجھتے ہیں کہ مجموعی پیداوار پانچ سے ساڑھے پانچ ملین گانٹھوں کے آس پاس ہی رہ جائے گی، جو کہ مقررہ ہدف کے مقابلے میں تقریباً نصف کے برابر ہے۔ کراچی کاٹن بروکرز فورم کے نمائندوں کے مطابق یہ کمی ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے خاصی تشویش ناک ہے، کیونکہ پاکستان کی ملیں سالانہ تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ گانٹھیں استعمال کرتی ہیں۔ اس فرق کو پورا کرنے کے لیے درآمدات کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔
صورتحال کو مزید پیچیدہ بنانے والا ایک اہم عنصر کپاس کی کاشت کے رقبے میں کمی ہے۔ اس سال کپاس تقریباً بیس لاکھ ہیکٹر سے کچھ زائد رقبے پر کاشت کی گئی، جو طے شدہ ہدف سے گیارہ فیصد کم ہے۔ کسانوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں بڑھتی ہوئی لاگت، فصل سے منسلک خطرات، اور منافع کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔ بروکریج اداروں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو زیادہ سے زیادہ پیداوار بھی سات ملین گانٹھوں سے آگے نہیں جا سکے گی۔
موسمیاتی تبدیلیوں نے بھی کپاس کی فصل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ رواں سال آنے والے شدید سیلابوں نے ملک کے کئی زرعی علاقوں کو نقصان پہنچایا، اور کپاس ان فصلوں میں شامل تھی جو سب سے زیادہ متاثر ہوئیں۔ کھڑی فصلیں تباہ ہو گئیں، جبکہ بعد ازاں کسانوں نے کپاس کی دوبارہ کاشت سے گریز کیا، کیونکہ نقصانات کے بعد سرمایہ کاری کرنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا۔
ماحولیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ کچھ ساختی مسائل بھی کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کپاس کے روایتی علاقوں میں شوگر ملز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے کاشتکار کپاس کے بجائے گنے کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ گنا کسانوں کو نسبتاً محفوظ فصل محسوس ہوتا ہے، کیونکہ اس کی خریداری یقینی ہوتی ہے اور بعض اوقات حکومتی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے۔ اس رجحان کے باعث کپاس کا زیرِ کاشت رقبہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔
عدالتی سطح پر اس مسئلے کو تسلیم کرتے ہوئے پنجاب کے بعض علاقوں میں کپاس کے بیلٹ کو بچانے کے لیے فیصلے بھی کیے گئے۔ ماضی میں سپریم کورٹ نے جنوبی پنجاب کے کچھ اضلاع میں قائم شوگر ملز کو منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے تاکہ کپاس کی فصل کو تحفظ دیا جا سکے۔ تاہم ان اقدامات کے باوجود مجموعی رجحان میں کوئی بڑی تبدیلی نظر نہیں آئی، اور گنا اب بھی کئی علاقوں میں کپاس کی جگہ لے چکا ہے۔
عالمی منڈی میں کپاس کی قیمتیں بھی ملکی فیصلوں پر اثر ڈال رہی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر کپاس نسبتاً سستی ہونے کی وجہ سے ٹیکسٹائل مل مالکان درآمدی کپاس کو ترجیح دے رہے ہیں۔ نیویارک مارکیٹ میں حالیہ قیمتیں پچھلے سال کے مقابلے میں کم رہی ہیں، جس سے درآمدات مزید پرکشش ہو گئی ہیں۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ رجحان وقتی طور پر لاگت کم کرنے میں مدد دیتا ہے، لیکن طویل مدت میں اس سے مقامی کاشتکار مزید حوصلہ شکنی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
سرکاری تجارتی اعداد و شمار بھی اس بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق جولائی سے نومبر کے درمیان پاکستان نے خام کپاس، مصنوعی فائبر، مصنوعی و ریشمی دھاگے اور استعمال شدہ ملبوسات کی مد میں اربوں ڈالر خرچ کیے، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مقامی پیداوار میں کمی کے ساتھ درآمدات میں اضافہ مسلسل جاری ہے۔
ٹیکسٹائل مل مالکان اس حقیقت سے انکار نہیں کرتے کہ رواں سال بڑے پیمانے پر کپاس منگوانا ناگزیر ہو گا۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے نمائندوں کے مطابق سات سے ساڑھے سات ملین گانٹھوں کی درآمد متوقع ہے، تاکہ فیکٹریوں کی پیداوار میں رکاوٹ نہ آئے۔ اس وقت ملیں پہلے ہی مہنگی بجلی، گیس کے بحران اور پرانی مشینری جیسے مسائل کا سامنا کر رہی ہیں، جس سے پیداواری لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
گزشتہ مالی سال کے دوران بھی پاکستان نے چھ ملین سے زائد گانٹھیں درآمد کی تھیں، جن میں سے زیادہ تر برازیل اور امریکا سے آئی تھیں۔ ان ممالک کو اس لیے ترجیح دی جاتی ہے کہ وہاں کپاس کا معیار بہتر اور سپلائی نسبتاً مستحکم ہوتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ رواں سال بھی یہی ممالک پاکستان کی درآمدات کا بڑا ذریعہ بنیں گے، تاہم مجموعی درآمدی بل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سال کپاس کی درآمدات پر ایک ارب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہونے کا امکان ہے، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ لاگت ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اگرچہ یہ درآمدات ٹیکسٹائل سیکٹر کو خام مال کی فراہمی یقینی بنائیں گی، مگر اس کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بھی بڑھے گا۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ یہ شعبہ کل برآمدات کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتا ہے، مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں کردار ادا کرتا ہے، اور صنعتی مزدوروں کی بڑی تعداد کو روزگار مہیا کرتا ہے۔ ایسے میں خام مال کی کمی یا مہنگی درآمدات نہ صرف صنعت بلکہ مجموعی معیشت کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہیں۔
ماہرینِ معیشت خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ فوری طور پر کپاس کی درآمد ضروری ہے، لیکن طویل مدت میں مقامی پیداوار کی بحالی کے بغیر یہ حکمتِ عملی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ درآمدات پر بڑھتا ہوا انحصار پاکستان کو عالمی قیمتوں اور کرنسی کے اتار چڑھاؤ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ قیمتی زرمبادلہ دیگر اہم ضروریات کے بجائے خام مال کی خرید پر خرچ ہو جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ملنے والی رقم سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کپاس جیسی اجناس کی درآمدات اسی رفتار سے جاری رہیں تو یہ بہتری عارضی ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق کپاس کی کاشت کو دوبارہ منافع بخش بنانے، بہتر بیج فراہم کرنے، کسانوں کو تحفظ دینے اور زرعی پالیسی میں سنجیدہ اصلاحات کے بغیر صورتحال میں بہتری ممکن نہیں۔
موجودہ سیزن کپاس کے شعبے میں موجود کمزوریوں کو ایک بار پھر بے نقاب کر رہا ہے۔ موسمیاتی خطرات، پالیسی کی عدم تسلسل، اور فصلوں کے انتخاب میں عدم توازن نے ایک اہم فصل کو زوال کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ درآمدات وقتی طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سہارا دے سکتی ہیں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی زرعی اور صنعتی ترقی کے لیے مقامی کپاس کی بحالی ناگزیر ہے۔
