اسلام آباد: سعودی عرب کی کابینہ نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی زیر صدارت اجلاس میں اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ مملکت اپنی قومی سلامتی اور علاقائی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ کابینہ نے خاص طور پر یمن کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے لیے سعودی پختہ عزم کو دہراتے ہوئے یمنی صدارتی قیادت کونسل اور ان کی حکومت کے لیے مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
اجلاس میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ مملکت کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے باوجود غیر ضروری اشتعال انگیزی دیکھی گئی، جو یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے اتحاد کے اصولوں سے متصادم تھی اور خطے میں امن و استحکام کے اہداف کے لیے سودمند نہیں۔ کابینہ نے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کی درخواست پر 24 گھنٹے کے اندر اپنی افواج کا انخلا یقینی بنائے اور کسی بھی فریق کو عسکری یا مالی معاونت فراہم نہ کرے۔
کابینہ نے حضرموت اور المہرہ گورنریوں میں شہری تحفظ کے اقدامات اور کشیدگی کم کرنے میں یمن کی آئینی حکومت کے اتحادی کردار کو سراہا، اور امید ظاہر کی کہ خطے میں بھائی چارہ، حسنِ ہمسائیگی اور خلیج تعاون کونسل کے اصول کو ترجیح دی جائے گی۔
اس کے علاوہ، اجلاس میں سعودی-روسی تعلقات کے حوالے سے شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کابینہ کو صدر ولادیمیر پوتین کی جانب سے موصولہ مکتوب سے آگاہ کیا، جو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر زور دیتا ہے۔ کابینہ نے سعودی عمانی رابطہ کونسل کے تیسرے اجلاس کے نتائج کو بھی سراہا اور معیشت، تجارت، صنعت، توانائی، سرمایہ کاری اور دیگر اہم شعبوں میں پیش رفت پر زور دیا تاکہ دونوں برادر عوام مزید خوشحالی حاصل کر سکیں۔
وزیر اطلاعات سلمان الدوسری نے بتایا کہ کابینہ نے علاقائی حالات، جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری اور اسرائیلی قابض حکام کی یکطرفہ اقدامات کا بھی جائزہ لیا اور سعودی عرب کی عالمی سطح پر انسانی امداد، صحت، تعلیم، رہائش اور غذائی اشیا کی فراہمی کے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
یہ تمام اقدامات اسلامی تعلیمات اور اقدار کے اصولوں کے مطابق خطے میں امن، استحکام اور انسانی فلاح و بہبود کو فروغ دینے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
