نیویارک: پاکستان نے پیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے صومالی لینڈ کو آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کر دیا اور فلسطینی عوام کی کسی بھی بے دخلی کی کوشش کو ناقابل قبول قرار دیا۔
اقوام متحدہ میں پاکستانی نائب مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ اسرائیل کی یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی واضح کوشش بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو غزہ سے صومالی لینڈ بھیجنے کی منصوبہ بندی ایک غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے۔
عثمان جدون نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ فلسطین کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق دو ریاستی حل کے ذریعے حل کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ صومالی لینڈ صومالیہ کا ناقابل تنسیخ اور لازمی حصہ ہے اور کسی بیرونی طاقت کو اسے تبدیل کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان سمیت او آئی سی کے 21 عرب، اسلامی اور افریقی ممالک نے اتوار کو اسرائیل کے اس غیر قانونی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
عثمان جدون نے صومالی حکومت کی کوششوں کو سراہا جو ملکی استحکام کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور کہا کہ اسرائیل کا رویہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس غیر قانونی اقدام کی مخالفت، فلسطین اور صومالیہ کی خودمختاری اور سالمیت کی مکمل حمایت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے واضح پیغام دیا کہ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق اور علاقائی سالمیت کے احترام کے بغیر عالمی امن قائم نہیں رہ سکتا، اور ایسے اقدامات کا کوئی جواز نہیں۔
