اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اندرونی سیاسی بحرانوں اور بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی توجہ ہٹانے کے لیے دانستہ طور پر علاقائی محاذوں پر تناؤ پیدا کر رہی ہے۔ اسی تناظر میں شمال مشرقی افریقا، بالخصوص قرنِ افریقا اور متنازع خطے "صومالی لینڈ” میں اسرائیلی نقل و حرکت سامنے آئی ہے، جسے خطے کے دفاعی اور سفارتی حلقوں میں نہایت خطرناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق صومالی لینڈ میں ممکنہ اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام سے متعلق سرگرمیوں نے مصر اور عرب قومی سلامتی کو ایک نئے اور سنگین تزویراتی امتحان سے دوچار کر دیا ہے۔ سرکاری اور قانونی حلقوں کی جانب سے واضح انتباہ دیا گیا ہے کہ بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ ایک "سرخ لکیر” ہے، جس کے نتائج پورے خطے کو ایسی فوجی کشیدگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں جو پہلے کبھی زیرِ غور نہیں تھی۔
مصر میں ملٹری اکیڈمی برائے ہائیر اسٹڈیز کے کالج آف کمانڈ اینڈ اسٹاف کے لیکچرار، میجر جنرل (سٹاف) اسامہ محمود کبیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں اس بات کی تصدیق کی کہ بنیامین نیتن یاہو اپنی حکومت کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے دانستہ طور پر سیاسی اور فوجی تناؤ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے پیچھے تین بڑے جیو اسٹریٹجک اہداف کارفرما ہیں۔
میجر جنرل کبیر کے مطابق پہلا مقصد حوثی گروہ کو قریب سے نشانہ بنانے کے لیے فوجی اڈا قائم کرنا ہے، دوسرا ہدف صومال میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کمزور کرنا ہے، جبکہ تیسرا اور سب سے خطرناک مقصد بحیرہ احمر کے داخلی راستے پر جہاز رانی کو کنٹرول کر کے مصر پر دباؤ ڈالنا اور اس کی قومی سلامتی کو براہِ راست متاثر کرنا ہے۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا منفی اثر نہر سوئز کی آمدنی پر پڑ سکتا ہے، جو مصری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایتھوپیا کے نہضہ ڈیم کے معاملے میں قاہرہ کو سیاسی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں بھی اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
فوجی ماہر نے واضح کیا کہ مصر نے ان اسرائیلی اقدامات کی سفارتی سطح پر فوری اور سخت مذمت کی ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے واقعی صومالی لینڈ میں فوجی اڈے کی تعمیر شروع کی تو مصر کا ردعمل زیادہ مؤثر اور عملی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قاہرہ کے پاس ایسے عسکری اور دفاعی وسائل موجود ہیں جو اسے اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کی مکمل صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈاکٹر محمد محمود مہران نے اس پیش رفت کو "اسٹریٹجک ریڈ لائن” عبور کرنے کے مترادف قرار دیا۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں مصر محض سفارتی احتجاج تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت احتیاطی دفاعی اقدامات اٹھانے کا مکمل قانونی حق رکھتا ہے۔
ڈاکٹر مہران نے انکشاف کیا کہ موگادیشو میں قانونی حکومت کے ساتھ دفاعی معاہدوں کے تحت صومال میں مصر کی موجودہ فوجی موجودگی قاہرہ کو ایسے مضبوط قانونی اور میدانی اوزار فراہم کرتی ہے جن کے ذریعے کسی بھی غیر قانونی اسرائیلی فوجی اڈے کے قیام کو روکا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ باب المندب میں مصر کے حیاتی مفادات کے تحفظ کے لیے جغرافیائی فاصلہ مصری مسلح افواج کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں بنے گا۔
انہوں نے آخر میں واضح کیا کہ خطے میں کسی بھی اسرائیلی فوجی موجودگی کا سامنا مصر اکیلا نہیں کرے گا، بلکہ یہ 1950 کے "عرب مشترکہ دفاع” کے معاہدے سے ٹکراؤ ہوگا، جو عرب ممالک کو کسی بھی وجودی خطرے کے خلاف اجتماعی ردعمل کا پابند بناتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو قرنِ افریقا ایک نئے بڑے علاقائی تصادم کا مرکز بن سکتا ہے۔
