نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پاکستان میں شناخت کی توثیق کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے چہرے کی شناخت پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی نظام متعارف کروا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بنیادی طور پر ان شہریوں کی مدد کرنا ہے جو روایتی فنگر پرنٹ کے ذریعے تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، خاص طور پر بزرگ شہری اور وہ افراد جو بعض طبی مسائل کے باعث فنگر پرنٹ کے نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی کو تصدیقی عمل میں شامل کر کے نادرا یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ہر شہری بلا رکاوٹ اپنی شناخت سے متعلق خدمات تک رسائی حاصل کر سکے۔
نادرا کے ایک ترجمان کے مطابق، اس نئے نظام کی تیاری براہِ راست وزیرِ اعظم اور وزیرِ داخلہ کے احکامات کے تحت کی گئی، جنہوں نے ملک میں شناختی تصدیق کے طریقہ کار کو جدید اور جامع بنانے پر زور دیا تھا۔ حکام نے محسوس کیا کہ موجودہ فنگر پرنٹ پر انحصار ہر شہری کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں، خصوصاً ان افراد کے لیے جو جسمانی یا طبی وجوہات کی بنا پر فنگر پرنٹ فراہم نہیں کر سکتے۔ اسی لیے متعدد اقدامات کیے گئے تاکہ قانونی اور عملی سطح پر بایومیٹرک تصدیق کے دائرہ کار کو وسیع کیا جا سکے۔
اس عمل کے اہم اقدامات میں سے ایک قومی شناختی کارڈ کے قواعد میں ترامیم شامل ہیں، جس کے تحت چہرے کی شناخت کو بایومیٹرک تصدیق کے جائز طریقے کے طور پر باقاعدہ قانونی حیثیت دی گئی۔ اس قانونی تبدیلی کے ذریعے چہرے کی شناخت کو نہ صرف تسلیم شدہ بلکہ قابل قبول تصدیقی طریقہ قرار دیا گیا، تاکہ یہ حکومت اور نجی اداروں دونوں میں یکساں طور پر استعمال ہو سکے اور شہریوں کو اضافی دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
نادرا نے اس نظام کی تیاری کے لیے متعلقہ حکومتی اور نجی اداروں سے رابطہ کیا ہے تاکہ وہ چہرے کی شناخت کو تصدیق کے درست اور قابل قبول طریقے کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے ضروری انتظامات کریں۔ اس ہم آہنگی کا مقصد یہ ہے کہ جیسے ہی نظام مکمل طور پر فعال ہو، تمام شعبے اسے آسانی سے اپنا سکیں۔ چہرے کی شناخت کو شامل کرنا پاکستان کے شناختی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ بھی ہے، جو عالمی معیار اور جدید ڈیجیٹل شناختی رجحانات کے مطابق ہو۔
یہ نئی سروس پہلے ہی نادرا کی Pak-Identity موبائل ایپلیکیشن میں شامل کی جا چکی ہے، جس کے ذریعے شہری اس فیچر تک براہِ راست اپنے موبائل فون کے ذریعے رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ جب پاکستان کا ڈیجیٹل آئی ڈی سسٹم باضابطہ طور پر لانچ ہوگا، تو شہری ایپ کے ذریعے براہِ راست چہرے کی شناخت سے تصدیق کر سکیں گے۔ یہ اقدام حکومتی شعبے میں ٹیکنالوجی کی بنیاد پر حل تلاش کرنے کی سمت میں اہم پیش رفت ہے، جس سے شہریوں کے وقت اور محنت کی بچت ہوگی۔
20 جنوری سے ملک بھر کے تمام نادرا رجسٹریشن سینٹرز میں چہرے کی شناخت پر مبنی بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کیے جائیں گے۔ نئے طریقہ کار کے تحت اگر کسی شہری کی فنگر پرنٹ تصدیق ناکام ہو جائے تو اسے قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر کی جانب ہدایت کی جائے گی جہاں چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کی جائے گی۔ اس طرح کوئی شہری صرف اس وجہ سے شناختی خدمات سے محروم نہیں رہے گا کہ اس کے فنگر پرنٹ کے ذریعے تصدیق ممکن نہیں۔
اس عمل میں شہری کے چہرے کی خصوصیات کو خصوصی سافٹ ویئر اور آلات کے ذریعے اسکین کیا جائے گا اور ان کا ڈیٹا نادرا کے قومی ڈیٹا بیس کے ساتھ ملا کر تصدیق کی جائے گی۔ کامیاب تصدیق کے بعد نادرا شہری کو بایومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔ یہ سرٹیفکیٹ ایک باقاعدہ دستاویز کے طور پر کام کرے گا جو شناخت کی تصدیق فراہم کرے گا، اور شہری اسے معمولی فیس ادا کر کے حاصل کر سکیں گے۔ سرٹیفکیٹ میں ضروری ذاتی معلومات شامل ہوں گی، جیسے شہری کی تصویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، مکمل نام، والد کا نام، ایک منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور QR کوڈ۔ ہر سرٹیفکیٹ جاری ہونے کی تاریخ سے سات دن تک قابلِ استعمال ہوگا، تاکہ تصدیقی معلومات تازہ اور درست رہیں۔
نادرا نے شہریوں کی سہولت اور کسٹمر سپورٹ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا ہے۔ جو شہری سروس حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کریں یا تکنیکی مسائل پیش آئیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ متعلقہ ادارے یا محکمہ میں شکایت درج کرائیں۔ شکایات کے لیے واضح چینلز قائم کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سروس کے معیار کو بلند رکھا جا سکے اور ہر شہری بلا رکاوٹ اس جدید سروس سے مستفید ہو۔
چہرے کی شناخت پر مبنی یہ بایومیٹرک تصدیق نظام پاکستان کے ڈیجیٹل شناختی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے بھی ایک اہم قدم ہے۔ جیسے ہی ملک کا ڈیجیٹل آئی ڈی سسٹم مکمل طور پر فعال ہوگا، اس ٹیکنالوجی کو مختلف شعبوں میں استعمال کیا جا سکے گا، جیسے حکومت کی خدمات، بینکنگ، صحت کے شعبے اور دیگر وہ شعبے جہاں شناخت کی تصدیق ضروری ہے۔ اس اقدام سے دستی اور کاغذی طریقہ کار پر انحصار کم ہوگا اور شہریوں کے لیے خدمات تک رسائی زیادہ آسان ہو جائے گی۔
نادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت کی تیاری اور نفاذ میں تربیت، سافٹ ویئر ڈپلائمنٹ اور مختلف اداروں کے ساتھ رابطے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے تاکہ نظام پہلے دن سے مؤثر طور پر کام کرے۔ چہرے کی شناخت کو رجسٹریشن سینٹرز اور موبائل ایپ دونوں میں شامل کرنا شہریوں کے لیے متعدد رسائی کے مواقع پیدا کرتا ہے، جس سے سروس میں رکاوٹیں کم ہوں گی اور صارف کے تجربے میں بہتری آئے گی۔
نادرا کی یہ جدید بایومیٹرک تصدیق سروس پاکستان کے شناختی نظام میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو گی۔ یہ فنگر پرنٹ تصدیق میں مشکلات کے مسائل کو حل کرتی ہے، قانونی طور پر تسلیم شدہ جدید تصدیقی طریقہ فراہم کرتی ہے اور ہر شہری، خواہ عمر رسیدہ ہو یا طبی وجوہات کی بنا پر فنگر پرنٹ دینے سے قاصر ہو، کے لیے شناختی خدمات تک رسائی کو یقینی بناتی ہے۔ ملک گیر نفاذ، موبائل ایپ میں انضمام اور سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کا واضح طریقہ کار اس بات کی مثال ہے کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کو عوامی خدمات میں بروئے کار لا رہا ہے اور ہر شہری کے لیے آسان، مؤثر اور شفاف شناختی نظام فراہم کر رہا ہے۔
