جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے رہنما حافظ حمد اللہ نے کہا ہے کہ 18 سال سے کم عمر افراد کے نکاح پر پابندی قرآن و سنت کے صریح خلاف ہے۔ ہنگو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کی قانون سازی اور معاشی پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔
حافظ حمد اللہ کا کہنا تھا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد 1973 کا آئین عملی طور پر دفن ہو چکا ہے اور پارلیمنٹ میں ایسی قانون سازی کی جا رہی ہے جو اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دفعات کو محض کاغذوں تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ ان پر حقیقی عملدرآمد نظر نہیں آتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ دینی مدارس کے حوالے سے وعدے پورے نہیں کیے گئے اور نہ ہی سودی نظام کے خاتمے سے متعلق قوانین پر عمل درآمد ممکن بنایا جا سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سب اسلامی ریاست کے تصور کے منافی ہے۔
حافظ حمد اللہ نے گھریلو تشدد کے خلاف منظور کیے گئے قانون کو بھی قرآن و سنت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین اسلامی خاندانی نظام کو کمزور کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
قومی معیشت پر بات کرتے ہوئے جے یو آئی رہنما نے کہا کہ قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری سے بڑی معاشی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب پاکستان خود 80 ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہے تو کیا اب ملک کو بھی نجی شعبے کے حوالے کر دیا جائے گا؟
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتی پالیسیاں نہ صرف عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل رہی ہیں بلکہ ریاست کے نظریاتی اور معاشی تشخص کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔
