یمنی شوریٰ کونسل کی صدارتی باڈی نے سعودی عرب کے برادرانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ریاض نے یمن کی قانونی و آئینی حکومت کی حمایت اور ملک کے مشرقی صوبوں میں بڑھتے ہوئے تناؤ پر قابو پانے کے لیے قابلِ تحسین اقدامات کیے ہیں۔ صدارتی باڈی نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کی منسوخی کے فیصلے کا بھی خیرمقدم کیا ہے۔
شوریٰ کونسل کے مطابق سعودی عرب نے حضرموت اور المہرہ کے صوبوں میں حالیہ کشیدگی کے آغاز سے ہی یمنی حکومت کی قیادت، سیاسی شخصیات اور بااثر فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور انتھک سفارتی کوششیں کیں، جن کا مقصد حالات کو پرسکون بنانا اور امن و استحکام کو فروغ دینا تھا۔
کونسل نے انکشاف کیا کہ جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی جانب سے مشرقی یمن میں فوجی کشیدگی کے تناظر میں ریاض نے کئی سخت اور فیصلہ کن اقدامات کیے۔ سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ متحدہ عرب امارات یمن کے مطالبے پر عمل کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر اپنی فوجی افواج یمنی سرزمین سے واپس بلائے اور ہر قسم کی مالی اور عسکری امداد بند کرے۔
ریاض کی قیادت میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد نے المکلا بندرگاہ میں ایک فوجی امدادی کھیپ کو نشانہ بنایا، جہاں دو بحری جہاز یمنی حکومت یا اتحادی کمانڈ کی اجازت کے بغیر بندرگاہ میں داخل ہوئے تھے، جو رائج طریقہ کار کی صریح خلاف ورزی تھی۔
یمنی شوریٰ کونسل کی صدارتی باڈی نے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور قومی دفاعی کونسل کے فیصلوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان فیصلوں کا مقصد ریاست کی رِٹ، معاشرتی امن اور آئینی و قانونی فریم ورک کا تحفظ ہے، تاکہ طاقت کے زور پر کسی نئی حقیقت کو مسلط ہونے سے روکا جا سکے۔
کونسل نے حضرموت اور المہرہ سے جنوبی عبوری کونسل کی افواج کے انخلاء اور تمام کیمپوں کو “درع الوطن” افواج اور مقامی حکام کے حوالے کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ جاری بیان میں کہا گیا کہ شوریٰ کونسل صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہے جس کے تحت متحدہ عرب امارات کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کیا گیا، ہنگامی حالت نافذ کی گئی اور اماراتی افواج کو یمنی سرزمین چھوڑنے کی ہدایت دی گئی۔
بیان میں ان فیصلوں کو آئین اور قومی حوالہ جات پر مبنی ذمہ دارانہ اقدامات قرار دیا گیا، جن کا مقصد یمن کی خودمختاری کا تحفظ، سیکیورٹی و فوجی نظام میں موجود خرابیوں کی اصلاح اور آزاد شدہ صوبوں میں استحکام کو فروغ دینا ہے۔
یمنی شوریٰ کونسل نے واضح کیا کہ یمنی عوام کی بنیادی جنگ دہشت گرد حوثی ملیشیا کی بغاوت کے خاتمے کے خلاف ہے۔ کونسل کے مطابق خلیجی اقدام، قومی مکالمہ کانفرنس کے نتائج اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں کسی بھی منصفانہ اور جامع سیاسی حل کی مستقل بنیاد ہیں۔
اجتماع میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ مشرقی صوبوں میں کشیدگی کے تسلسل سے شہریوں کے معاشی اور بنیادی خدمات کے حالات بری طرح متاثر ہوں گے، جن میں تنخواہوں کی ادائیگی، ایندھن اور بجلی کی فراہمی سرفہرست ہیں۔ شوریٰ کونسل نے عالمی برادری اور سیاسی عمل کے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ قانونی یمنی حکومت کی حمایت کریں تاکہ وہ اپنے آئینی اختیارات مؤثر طور پر استعمال کر سکے۔
کونسل نے دسمبر کے دوران شوریٰ کونسل کے تمام جاری کردہ مؤقف کا جائزہ لیتے ہوئے ملک کی وحدت، سلامتی، استحکام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے عزم کی تجدید بھی کی۔
