امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے خلاف بڑے فوجی آپریشن کے بعد اب کولمبیا کے خلاف بھی فوجی کارروائی کی کھلی دھمکی دے دی ہے، جس سے لاطینی امریکہ میں شدید بے چینی اور عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کولمبیا کے خلاف فوجی کارروائی انہیں ’’مناسب‘‘ اور ’’خوش کُن‘‘ محسوس ہوتی ہے۔
صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر گسٹاوو پیٹرو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہایہ ایک بیمار ملک ہے جسے ایک بیمار شخص چلا رہا ہے، جسے کوکین بنانا اور امریکہ میں فروخت کرنا پسند ہے، لیکن وہ یہ کام زیادہ عرصے تک نہیں کر سکے گا۔
جب صحافیوں نے براہ راست سوال کیا کہ آیا امریکہ کولمبیا کے خلاف فوجی آپریشن کرے گا تو صدر ٹرمپ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے جواب دیایہ خیال مجھے خوش کرتا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے وینزویلا کے خلاف غیر معمولی فوجی کارروائی کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر کے نیویارک منتقل کر دیا ہے، جہاں انہیں منشیات کی اسمگلنگ سمیت سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے وینزویلا اور اس کے صدر نکولس مادورو کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر کامیاب کارروائی کی ہے، جس کے نتیجے میں مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس بیان کے بعد ایک اور حیران کن اعلان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کو اب امریکہ چلائے گا اور اس کے وسیع تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ کابینہ کے اراکین کو اس پورے عمل کی نگرانی کے لیے ’’نامزد‘‘ کیا جا رہا ہے، جبکہ ایک اور بیان میں وینزویلا میں امریکی فوج کی ممکنہ تعیناتی کا عندیہ بھی دے دیا گیا۔
واضح رہے کہ امریکہ کی جانب سے بائیں بازو کے رہنما نکولس مادورو پر گزشتہ کئی ماہ سے دباؤ بڑھایا جا رہا تھا۔ صدر ٹرمپ نے دسمبر میں کہا تھا کہ مادورو کے لیے اقتدار چھوڑ دینا ’’دانشمندی‘‘ ہوگی، جبکہ اس سے قبل وہ یہ بھی کہہ چکے تھے کہ:
وینزویلا میں ہونے والی امریکی فوجی کارروائی پر کیوبا نے سخت ردعمل دیتے ہوئے سنگین الزامات عائد کر دیے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کیوبا کے دارالحکومت ہوانا سے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن پر جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکی کارروائی ایک ’’مجرمانہ اقدام‘‘ ہے، جس کے نتیجے میں 32 کیوبن شہری ہلاک ہو گئے۔
کیوبا کے حکام نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
