پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے ملک بھر کے تمام زونل دفاتر میں فوری طور پر پری ڈیپارچر فیسلیٹیشن ڈیسک قائم کر دیے ہیں، جن کا مقصد بیرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کو امیگریشن کے طریقۂ کار، کلیئرنس اور سفری دستاویزات سے متعلق بروقت رہنمائی اور عملی معاونت فراہم کرنا ہے تاکہ ان کا سفر آسان، شفاف اور بلا رکاوٹ بنایا جا سکے۔
اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان سہولت ڈیسکوں کے ذریعے مسافر ایئرپورٹ روانگی سے قبل اپنے کاغذات کی جانچ پڑتال کروا سکیں گے، جس سے آخری وقت میں پیش آنے والی مشکلات اور مبینہ آف لوڈنگ کے واقعات میں نمایاں کمی آئے گی۔
محسن نقوی کے مطابق یہ سہولت مسافروں کو ذاتی طور پر، ہیلپ لائنز اور ای میل کے ذریعے دستیاب ہو گی جبکہ ان ڈیسکوں سے متعلق مکمل تفصیلات ہوائی اڈوں، سرحدی گزرگاہوں اور ایف آئی اے کی ویب سائٹ پر بھی فراہم کی جائیں گی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد بین الاقوامی مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا اور سفری عمل کو زیادہ مؤثر، منظم اور شفاف بنانا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف ہوائی اڈوں سے مسافروں کو مبینہ طور پر آف لوڈ کیے جانے کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جس پر عوامی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔ اسی روز محسن نقوی نے ایف آئی اے کراچی زون کا دورہ بھی کیا۔ جہاں انہوں نے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کراچی اور ساؤتھ زون کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا۔
اجلاس کے دوران وزیر داخلہ نے منی لانڈرنگ میں ملوث مافیا کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ بڑے منی لانڈرز پر مضبوط ہاتھ ڈالا جائے، منی ٹریل کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جائے اور حوالہ و ہنڈی کے غیر قانونی کاروبار کو کسی صورت برداشت نہ کیا جائے۔ انہوں نے انسانی سمگلنگ میں ملوث ایجنٹس اور مافیا کے خلاف بھی بلا امتیاز کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ معصوم لوگوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بیرونِ ملک بھجوانے والے عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اور کسی دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر ان کے خلاف سخت ایکشن نظر آنا چاہیے۔
وزیر داخلہ نے جعلی ادویات کے کاروبار پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، اس لیے ان کے خلاف فوری اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ایف آئی اے کراچی زون میں انسانی وسائل کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائے گا اور افسران کو تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے، تاہم کارکردگی، شفافیت اور ادارے کی نیک نامی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق گزشتہ چار ماہ کے دوران انسانی سمگلنگ میں ملوث 20 ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا جبکہ 140 ملین روپے مالیت کی نان کسٹم مصنوعات اور منشیات ضبط کی گئیں، اس کے علاوہ مسافروں کی سہولت کے لیے کراچی ایئرپورٹ پر سہولت سنٹر بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
