حضرموت کے گورنر سالم الخنبشی نے پیر کے روز العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت صوبے کی قیادت کا بنیادی مقصد سکیورٹی اداروں کی تعمیرِ نو اور ریاستی عملداری کی بحالی ہے۔ ان کا یہ بیان اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ حضرموت ایک بار پھر مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں آ چکا ہے۔
ایک انٹرویو میں گورنر سالم الخنبشی نے واضح کیا کہ حضرموت میں جنوبی عبوری کونسل کا کوئی وجود نہیں اور صوبے کے تمام ادارے حکومتی کنٹرول میں ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی صورتحال کو مستحکم بنانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔
مکلا اور سیئون ایئرپورٹس پر پیش آنے والے سامان کی لوٹ مار کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے گورنر نے کہا کہ حکام اس وقت تخریب کاری اور اسمگلنگ کی سرگرمیوں سے نمٹ رہے ہیں، تاہم حالات تیزی سے قابو میں آ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیئون ایئرپورٹ جلد دوبارہ فعال کر دیا جائے گا۔
گورنر الخنبشی نے کہا کہ حکومت کو حضرموت کے عوام اور سعودی عرب کی بھرپور اور غیر محدود حمایت حاصل ہے۔ ان کے بقول تعمیرِ نو اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے گورنری کے تمام سرکاری اداروں کو دوبارہ فعال کیا جائے گا اور انتظامی رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔
انہوں نے مقامی اتھارٹی کی حمایت کو سراہتے ہوئے بتایا کہ وہ شہر میں کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے مکلہ کا دورہ کریں گے تاکہ معمولاتِ زندگی دوبارہ شروع ہو سکیں۔سکیورٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے گورنر نے انکشاف کیا کہ غیر قانونی عناصر کو اسلحہ سمگلنگ کے دوران گرفتار کیا گیا ہےجبکہ ہوم لینڈ شیلڈ فورسز کالعدم عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں۔
سالم الخنبشی نے جنوبی عبوری کونسل میں شامل افراد سے اپیل کی کہ وہ عقل و دانش سے کام لیتے ہوئے واپس آئیں اور ہتھیار ڈال دیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت تمام تباہ شدہ ریاستی اداروں کی تعمیرِ نو کے لیے کام کر رہی ہے تاکہ وہ اپنے آئینی اور انتظامی فرائض دوبارہ انجام دے سکیں۔گورنر نے حضرموت کو ہر قسم کی امداد فراہم کرنے پر سعودی عرب کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حمایت نہایت اہم اور فیصلہ کن ہے اور اس کے مثبت اثرات صوبے کے تمام علاقوں اور عوام تک پہنچیں گے۔
