لاہور کی نجی جامعہ، یونیورسٹی آف لاہور میں ایک نہایت افسوسناک اور تشویشناک واقعہ پیش آیا ہے، جس نے نہ صرف طلبہ بلکہ یونیورسٹی کے عملے اور والدین کے لیے بھی ایک سنگین الرٹ کا کام کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی ایک طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئیں اور فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کی گئیں۔ یہ واقعہ یونیورسٹی کی دوسری منزل پر پیش آیا، جہاں طالبہ نے اچانک چھلانگ لگا دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، واقعہ خودکشی کی کوشش کے زمرے میں آتا ہے، تاہم اس کے پیچھے وجوہات کو تاحال مکمل طور پر واضح نہیں کیا جا سکا ہے۔
لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز، فیصل کامران نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ طالبہ کا تعلق نارووال سے ہے اور والدین کو فوری طور پر لاہور بلانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیٹی کے علاج اور اس واقعے سے متعلق معاملات میں شامل ہو سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ طالبہ کی ٹانگیں فریکچر ہو گئی ہیں اور وہ فی الحال ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ خوش قسمتی سے سر پر کوئی سنگین چوٹ نہیں آئی، تاہم مجموعی حالت تشویشناک ہے اور طبی ماہرین مسلسل ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔
ڈی آئی جی فیصل کامران کے مطابق، ابتدائی معلومات کے مطابق طالبہ واقعے سے تقریباً آدھا گھنٹہ قبل کسی سے فون پر بات کر رہی تھیں، اور اسی دوران یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ پولیس نے طالبہ کا موبائل فون تحویل میں لے لیا ہے، جو اس وقت لاک ہے۔ ڈی آئی جی نے واضح کیا کہ جیسے ہی علاج مکمل ہوگا، طالبہ سے فون کا پاس ورڈ طلب کیا جائے گا تاکہ ممکنہ شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ بصورت دیگر، موبائل کا تکنیکی تجزیہ کرایا جائے گا تاکہ کسی قسم کی قانونی کارروائی میں یہ ثبوت مؤثر ثابت ہو۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیمپس میں تمام کلاسز معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ طلبہ اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے آن کیمپس تدریسی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔ اس کے بجائے منگل، 6 جنوری 2025 سے تمام تعلیمی سرگرمیاں آن لائن منتقل کر دی جائیں گی، جب تک کہ مزید ہدایات جاری نہ ہوں۔ یونیورسٹی انتظامیہ ہر منزل پر حفاظتی اقدامات جیسے باڑ لگانا، اضافی عملہ تعینات کرنا اور طلبہ کی نگرانی کے دیگر انتظامات پر بھی غور کر رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ افسوسناک واقعہ یونیورسٹی میں گذشتہ ماہ پیش آنے والے ایک اور سانحے کے صرف تین ہفتے بعد سامنے آیا، جب فارم ڈی کے 22 سالہ طالب علم نے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔ اہل خانہ اور ساتھی طلبہ نے بتایا کہ مذکورہ طالب علم کم حاضری، تعلیمی دباؤ اور دیگر طلبہ کی جانب سے ممکنہ نفسیاتی دباؤ کے سبب ذہنی دباؤ کا شکار تھا۔ اس کے علاوہ، فیس ادا کرنے کے باوجود اس کے سمسٹر کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی موجود تھا، جس نے اسے شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا تھا۔
پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے کہا ہے کہ یونیورسٹی میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مزید حفاظتی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات میں طلبہ کی ذہنی صحت کے حوالے سے مشاورت، ہنگامی صورت حال میں فوری ردعمل کے طریقہ کار اور کیمپس میں حفاظتی عملے کی تعیناتی شامل ہو سکتی ہے۔ اہل خانہ اور ساتھی طلبہ بھی مطالبہ کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ کی ذہنی فلاح و بہبود کو ترجیح دے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مستقل اقدامات کرے۔
اس واقعے نے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی ذہنی صحت اور حفاظت کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین تعلیم اور نفسیات کا کہنا ہے کہ طلبہ پر تعلیمی دباؤ، غیر متوازن حاضری، اور سماجی دباؤ اس طرح کے واقعات کا بنیادی سبب بن سکتے ہیں، اور اس سے نمٹنے کے لیے تعلیمی اداروں کو موثر اور بروقت حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ یونیورسٹی میں موجود حفاظتی اور نفسیاتی اقدامات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک اور جان لیوا واقعات سے بچا جا سکے۔
یہ افسوسناک واقعہ نہ صرف یونیورسٹی آف لاہور کے لیے بلکہ پورے تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ طلبہ کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کو ترجیح دینا لازمی ہے۔ والدین، طلبہ، اور تعلیمی اداروں کی مشترکہ کوشش ہی ایسے واقعات کو کم کر سکتی ہے، اور اس ضمن میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے حفاظتی اقدامات ایک مثبت آغاز کے طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
