ریاض: معروف سعودی فیشن ڈیزائنر اور جامعہ طیبہ کی فیکلٹی ممبر دلال ظویھر الجھنی نے تاریخی مقامات پر کام کرنے والے گائیڈز کے لیے یونیفارمز ڈیزائن کرتے ہوئے العلا کی قدیم ثقافت اور تہذیب کو نمایاں کیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق الجھنی نے بتایا کہ انہوں نے کم عمری میں فیشن ڈیزائننگ کا آغاز کیا اور بین الاقوامی سطح پر سعودی عرب کی نمائندگی بھی کی۔ انہوں نے کہا اپنے ڈیزائن میں میں نے العلا کی قدیم تہذیب کے رموز کو اجاگر کیا، جو ماضی میں رائج تھے، تاکہ یونیفارم نہ صرف خوبصورت ہو بلکہ تاریخی اور ثقافتی شناخت بھی پیش کرے۔
الجھنی نے مزید وضاحت کی کہ یونیفارم میں سب سے زیادہ توجہ العلا کی ثقافت پر دی گئی، جس کے لیے الحجر اور جبل عکمہ میں موجود نقوش، نبطی دور کے حروف اور اشارے استعمال کیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈیزائن میں بیل، شیر اور ہاتھ جیسے نشان شامل کیے گئے تاکہ دیکھنے والے پہلی نظر میں جان سکیں کہ یہ گائیڈ العلا کے تاریخی علاقے کی رہنمائی کے لیے موجود ہے۔
ڈیزائن کے آغاز کے حوالے سے الجھنی نے کہاہر کام کا آغاز مشکل ہوتا ہے، جس میں مختلف چیلنجز درپیش ہوتے ہیں۔ اس منصوبے میں سب سے بڑی رکاوٹ اعلیٰ معیار کے خام مال کا حصول تھا، لیکن لگن اور تخلیقی صلاحیت نے ہر مشکل کو آسان کردیا۔
الجھنی کی محنت اور تخلیقی صلاحیت بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا۔ لندن انٹرنیشنل ایگزیبیشن برائے جدت اور ایجاد 2024 میں انہیں گولڈ ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ کروشیا اور رومانیہ میں بھی ان کے کام کو شاندار پذیرائی اور اعزازات ملے۔
یہ یونیفارمز نہ صرف گائیڈز کی پیشہ ورانہ شناخت کو بڑھاتے ہیں بلکہ العلا کی تاریخی اور ثقافتی وراثت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں
