یمن ایک بار پھر سیاسی و عسکری ہلچل کی زد میں آ گیا ہے، جہاں سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے یمن کے صوبے الضالع میں جنوبی علیحدگی پسند فورسز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب یمنی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل (STC) کے درمیان مذاکرات متوقع تھے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، سعودی اتحاد نے واضح کیا ہے کہ یہ فضائی حملے محدود لیکن انتہائی ہدفی نوعیت کے تھے، جن کا مقصد ممکنہ عسکری تصادم کو پھیلنے سے روکنا تھا۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں سے قبل خفیہ اطلاعات موصول ہوئیں کہ جنوبی عبوری کونسل کے سربراہ عیدروس الزبیدی نے ایک بڑی فوجی طاقت کو منظم کرنا شروع کر دیا ہے۔
سعودی اتحاد کے مطابق، الزبیدی نے بھاری اور ہلکے ہتھیاروں سے لیس فورسز کو الضالع میں جمع کر لیا تھا، جو خطے میں کشیدگی میں خطرناک اضافے کا سبب بن سکتی تھیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر اتحاد نے صبح 4 بجے پیشگی فضائی کارروائی کی تاکہ کسی بڑے تصادم کو روکا جا سکے۔
حیران کن طور پر، عیدروس الزبیدی کو اسی رات عدن سے ریاض روانہ ہونا تھا، جہاں انہیں یمنی حکومت اور جنوبی علیحدگی پسندوں کے درمیان اہم مذاکرات میں شرکت کرنا تھی۔ تاہم سعودی اتحاد کا کہنا ہے کہ الزبیدی طے شدہ پرواز پر سوار ہونے کے بجائے کسی نامعلوم مقام پر فرار ہو گئے
یمن کے ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ سخت بیان میں عیدروس الزبیدی پر غداری کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ اعلامیے کے مطابق، الزبیدی کو ان کے اقدامات کی بنیاد پر نائب صدر، صدارتی لیڈرشپ کونسل کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ الزبیدی کو اپنے مبینہ جرائم پر اٹارنی جنرل کے سامنے جوابدہ ہونا ہوگا، اور قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پیش رفت یمن کے سیاسی مستقبل کے لیے نہایت نازک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ایک جانب مذاکرات کی امید تھی، تو دوسری جانب عسکری طاقت کا مظاہرہ حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ آنے والے دن طے کریں گے کہ یمن مذاکرات کی میز کی طرف بڑھے گا یا ایک اور تصادم کی طرف۔
