جنوبی امریکہ کے ملک وینزویلا سے متعلق سامنے آنے والی تازہ تفصیلات نے عالمی مالیاتی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے کسٹمز ریکارڈز سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وینزویلا نے سابق صدر نکولس مادورو کے اقتدار کے ابتدائی برسوں میں بڑی مقدار میں سونا یورپ منتقل کیا، جس کی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔ یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مادورو کی گرفتاری، بین الاقوامی پابندیوں اور اثاثوں کے منجمد کیے جانے جیسے اقدامات عالمی خبروں کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق نکولس مادورو کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2013 سے 2016 کے درمیان وینزویلا نے مجموعی طور پر 113 ٹن سونا سوئٹزرلینڈ بھیجا۔ یہ سونا بنیادی طور پر زیورخ منتقل کیا گیا، جو دنیا کے بڑے سونے کے تجارتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ مالی ماہرین کے مطابق اس مقدار کے سونے کی اس وقت کی مجموعی مالیت تقریباً 4.14 ارب سوئس فرانک بنتی ہے، جو امریکی کرنسی میں لگ بھگ 5.20 ارب ڈالر کے برابر تھی۔ اس حجم کی ترسیل کو وینزویلا کی حالیہ تاریخ میں غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ قیمتی دھات وینزویلا کے مرکزی بینک کے ذخائر سے حاصل کی گئی تھی۔ اس دور میں وینزویلا شدید معاشی دباؤ کا شکار تھا، افراطِ زر تیزی سے بڑھ رہا تھا اور ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے حکومت مختلف ذرائع سے زرمبادلہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ سونے کی فروخت کو بھی اسی حکمتِ عملی کا حصہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل میں شفافیت کا فقدان تھا اور یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس رقم کا استعمال کن مقاصد کے لیے ہوا۔
سوئس نشریاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق یہ سونا براہِ راست وینزویلا کے مرکزی بینک سے برآمد کیا گیا۔ اس وقت حکومت عالمی منڈی میں سونے کی فروخت کے ذریعے مالی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی۔ تاہم بعد کے برسوں میں سامنے آنے والے حقائق نے شکوک و شبہات کو جنم دیا کہ آیا یہ لین دین محض معاشی ضرورت کے تحت تھا یا اس کے پیچھے دیگر خفیہ عوامل بھی کارفرما تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2017 کے بعد سے سوئٹزرلینڈ کو وینزویلا کی جانب سے سونے کی برآمدات کا سلسلہ مکمل طور پر رک گیا۔ کسٹمز ریکارڈز کے مطابق یورپی یونین کی جانب سے پابندیاں نافذ ہونے کے بعد 2025 تک وینزویلا نے ایک گرام سونا بھی سوئٹزرلینڈ نہیں بھیجا۔ ماہرین کے نزدیک یہ اچانک تعطل اس بات کی علامت ہو سکتا ہے کہ پابندیوں نے وینزویلا کے مالی اور تجارتی نیٹ ورک کو بری طرح متاثر کیا۔
حالیہ دنوں میں وینزویلا کی سیاست نے ایک ڈرامائی موڑ اس وقت لیا جب 3 جنوری کو امریکی خصوصی افواج نے کراکس میں کارروائی کرتے ہوئے نکولس مادورو کو حراست میں لے لیا۔ اس پیش رفت نے عالمی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔ مادورو کو امریکہ منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں نیویارک کی ایک عدالت میں متعدد سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ ان الزامات میں منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم اور منشیات سے جڑے دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرپرستی جیسے دعوے شامل ہیں، جن کی مادورو اور ان کے حامیوں کی جانب سے تردید کی جاتی رہی ہے۔
اسی تناظر میں سوئٹزرلینڈ نے بھی ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے نکولس مادورو اور ان کے قریبی حلقے سے تعلق رکھنے والے 36 افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا۔ سوئس حکام نے واضح کیا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور پابندیوں کے تحت کیا گیا ہے، تاہم ان اثاثوں کی مجموعی مالیت یا ان رقوم کے ذرائع کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ اس فیصلے نے یہ سوال مزید گہرا کر دیا ہے کہ آیا ان منجمد اثاثوں کا تعلق ماضی میں منتقل کیے گئے سونے یا اس سے حاصل ہونے والی آمدن سے ہے۔
تاحال اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ وینزویلا کے مرکزی بینک سے برآمد کیے گئے سونے اور حالیہ منجمد اثاثوں کے درمیان کوئی براہِ راست تعلق موجود ہے یا نہیں۔ تاہم عالمی مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان دونوں معاملات کو الگ الگ دیکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں کا تعلق ایک ہی دورِ حکومت اور ایک ہی سیاسی قیادت سے جڑا ہوا ہے۔
مجموعی طور پر یہ انکشافات وینزویلا کی حالیہ تاریخ کے ایک پیچیدہ اور متنازع باب کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایک طرف ملک شدید معاشی بحران، عوامی مشکلات اور بین الاقوامی پابندیوں کا شکار رہا، تو دوسری جانب اربوں ڈالر مالیت کے سونے کی بیرونِ ملک منتقلی اور خفیہ مالی سرگرمیوں کے الزامات سامنے آتے رہے۔ آنے والے دنوں میں عدالتی کارروائیاں اور مزید دستاویزات ممکنہ طور پر اس معاملے کی مزید پرتیں کھول سکتی ہیں، جو نہ صرف وینزویلا بلکہ عالمی مالیاتی نظام پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
