امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سیاست میں امریکا کے مرکزی کردار پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا نیٹو کا حصہ نہ ہو تو روس اور چین کو اس اتحاد سے کسی قسم کا خوف نہیں ہوگا، کیونکہ دونوں طاقتیں درحقیقت صرف امریکا سے ہی خوفزدہ ہیں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر وہ بروقت مداخلت نہ کرتے تو آج پورا یوکرین روس کے قبضے میں ہوتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ہمیشہ نیٹو کے ساتھ کھڑا رہے گا، چاہے نیٹو ممالک امریکا کے ساتھ مکمل تعاون کریں یا نہ کریں۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی مداخلت اور سخت مؤقف کے نتیجے میں نیٹو کے رکن ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا، جس سے اتحاد کی عسکری طاقت میں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق امریکا نے ان کے دور میں عالمی سطح پر ایک فیصلہ کن اور مؤثر کردار ادا کیا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ انہوں نے دنیا بھر میں اکیلے آٹھ بڑی جنگیں ختم کرائیں اور ان اقدامات کے نتیجے میں لاکھوں انسانی جانیں بچائی گئیں۔ نوبل امن انعام سے متعلق بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ناروے کی جانب سے انہیں یہ اعزاز نہ دینا ایک احمقانہ فیصلہ تھا، تاہم ان کے لیے اصل کامیابی امن کا قیام اور انسانی جانوں کا تحفظ ہے، نہ کہ ایوارڈز۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو عالمی سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر امریکا کی طاقت، نیٹو کے مستقبل اور یوکرین جنگ کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
