پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے چینی اے آئی بیسڈ ٹیکنالوجی پاکستان کے لیے نہایت مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز بیجنگ میں اپنے چینی ہم منصب وانگ ژاو ہونگ سے ملاقات کے دوران کہی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بیجنگ میں چینی وزارتِ پبلک سکیورٹی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا، جہاں دونوں وزرائے داخلہ کے درمیان ساڑھے تین گھنٹے طویل ملاقات ہوئی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں انسداد دہشت گردی، پولیس ٹریننگ ایکسچینج پروگرامز اور مشترکہ مفادات کے دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے درمیان نہ ٹوٹنے والا تعلق اور دیرپا تعاون موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی دراڑ ڈالنے کی کوششیں ناکام رہیں گی۔ انہوں نے زور دیا کہ سکیورٹی کے شعبے میں باہمی اشتراک دونوں ممالک کے اسٹریٹجک تعلقات کی مضبوط بنیاد ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں وزرائے داخلہ نے خطے کو درپیش سکیورٹی چیلنجز پر بھی گفتگو کی۔ چینی وزیر داخلہ وانگ ژاو ہونگ نے پاکستان میں چینی شہریوں اور منصوبوں کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور انسداد دہشت گردی و داخلی سکیورٹی کے حوالے سے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
دوسری جانب محسن نقوی نے کہا کہ جدید دور کے سکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے چینی اے آئی ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی اور جدید تجزیاتی نظام پاکستان کے لیے انتہائی معاون ثابت ہو سکتے ہیں، اور اس ضمن میں قریبی تعاون وقت کی ضرورت ہے۔
خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی چین کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ یی کے ساتھ ساتویں پاکستان۔چین وزرائے خارجہ سٹریٹجک مکالمے کی مشترکہ صدارت کی تھی۔ اس مکالمے میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور چین۔پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ وزرائے خارجہ کا سٹریٹجک مکالمہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ ترین مشاورتی فورم ہے، جو دوطرفہ تعاون کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی منظم مشاورت کا پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔
