امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے کولمبیا کے ہم منصب گسٹاوو پیٹرو کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دے دی، حالانکہ چند ہی دن قبل انہوں نے کولمبیا پر منشیات کی مبینہ سمگلنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ یہ دعوت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب خطے میں امریکی اقدامات کے باعث کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بدھ کے روز دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی بار فون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس کے بعد 79 سالہ ریپبلکن صدر نے اعلان کیا کہ وہ "مستقبل قریب میں” کولمبیا کے صدر سے ملاقات کے انتظامات کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ صدر پیٹرو نے فون کر کے "منشیات اور دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کی صورتحال پر وضاحت” کی۔ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے پیٹرو کے لہجے اور رویے کو سراہا اور جلد ملاقات کے خواہاں ہیں۔
چند روز قبل، تین جنوری کو، ہمسایہ ملک وینزویلا میں امریکی افواج کی کارروائی اور صدر نکولس مادورو کی بے دخلی کے بعد ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ "اپنی سلامتی پر نظر رکھیں”۔ اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ٹرمپ نے کولمبیا کے خلاف بھی اسی نوعیت کی فوجی کارروائی کا عندیہ دیا تھا جیسا کہ وینزویلا کے خلاف کیا گیا۔
ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے صدر پیٹرو پر منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا اور ان کے خاندان پر مالی پابندیاں بھی عائد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کولمبیا پر حملے کا اشارہ بھی دیا جس سے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ان الزامات اور دھمکیوں کے جواب میں صدر گسٹاوو پیٹرو نے پیر کے روز سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسے خطرات بڑھے تو کولمبیا "ہتھیار اٹھانے کے لیے تیار” ہے۔ انہوں نے بدھ کے روز ٹرمپ کی دھمکیوں کے خلاف ملک بھر میں عوامی مظاہروں کی اپیل بھی کی۔
کولمبیا کے نائب وزیر خارجہ موریسیو جارامیلو نے بدھ کو اے ایف پی کو انٹرویو دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وینزویلا پر امریکی حملہ پورے لاطینی امریکا کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے اور خطہ ایک بڑے بحران کی طرف جا سکتا ہے۔
ادھر صدر پیٹرو نے اپنے حامیوں سے خطاب میں بتایا کہ وہ وائٹ ہاؤس میں ہونے والے ممکنہ اجلاس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم ملاقات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک سخت تقریر کا منصوبہ بنا رہے تھے لیکن صدر ٹرمپ کے ساتھ ایک گھنٹہ طویل فون کال کے بعد انہوں نے اپنا لہجہ نرم کرنے کا فیصلہ کیا۔
پیٹرو کے مطابق انہوں نے ٹرمپ سے گفتگو میں دونوں ممالک کے درمیان وزارتِ خارجہ اور صدور کی سطح پر براہِ راست رابطے بحال کرنے پر زور دیا۔ واضح رہے کہ کولمبیا اور امریکا ماضی میں فوجی اور اقتصادی تعاون کے مضبوط شراکت دار رہے ہیں، تاہم حالیہ واقعات نے اس تعلق کو ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا ہے۔
