وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد ملک میں انصاف کی فراہمی کو تیز، مؤثر اور شفاف بنانا ہے، تاکہ عام آدمی کو برسوں عدالتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ججز انصاف عدالت میں فراہم کرتے ہیں، شاہی دربار میں نہیں، اور ان کا منصب ذاتی انا کی تسکین نہیں بلکہ عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ بار ایسوسی ایشنز میں سیاست خدمت کے جذبے کے تحت ہونی چاہیے، نہ کہ انتشار پھیلانے کے لیے۔ انہوں نے معصوم بچوں کو سیاسی مقاصد کے لیے ڈھال بنانے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جلسے جلوسوں میں بچوں کا استعمال غیر اخلاقی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔
وفاقی وزیر قانون نے اپوزیشن کو مخاطب کرتے ہوئے زور دیا کہ پارلیمنٹ ہی مسائل کے حل کا اصل فورم ہے، جہاں بیٹھ کر قومی معاملات پر سنجیدگی سے گفتگو کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فرد کے مفاد کے بجائے عوامی مسائل کو ترجیح دی جائے تاکہ جمہوری نظام مضبوط ہو سکے۔
خیبرپختونخوا کا حوالہ دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ صوبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر رہا ہے اور عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام سیاسی قوتوں اور اداروں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو سزا ہوئی ہے تو اس کے لیے قانونی راستہ اپنایا جائے، احتجاج یا اداروں پر چڑھائی کسی مسئلے کا حل نہیں۔
انہوں نے ملک کی بہتری اور خوشحال پاکستان کے قیام کے لیے اجتماعی کوششوں پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ نوجوان وکلا کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹریننگ سینٹر قائم کیا جائے گا، تاکہ آئندہ نسل کو جدید قانونی تقاضوں کے مطابق تربیت دی جا سکے۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے وفاق مضبوط ہوگا اور عدالتی نظام میں مزید توازن پیدا ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہر اسٹیک ہولڈر کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کے لیے تیار ہیں تاکہ تمام مسائل کا پرامن، مؤثر اور دیرپا حل نکالا جا سکے۔ ان کے مطابق شفاف اور فوری انصاف کے قیام کے لیے ریاستی اداروں اور شہریوں، دونوں کا تعاون ناگزیر ہے
