تہران:ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کے خون سے رنگین ہیں اور ایک قاتل امریکی مظاہرین کے ساتھ ہمدرد کیسے ہو سکتا ہے۔
قوم سے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ چند کم عقل اور ناتجربہ کار لوگ ٹرمپ کے بیانات میں آجاتے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ پہلے اپنے ملک میں ہونے والے مظاہروں پر توجہ دیں۔ ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ تہران اور دیگر شہروں میں ہونے والے جلاؤ گھیراؤ میں شرپسند عناصر ملوث ہیں، لیکن ایرانی نوجوان متحد ہیں اور کسی بھی دشمن کو شکست دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران میں چند عناصر شرانگیزی پھیلارہے ہیں اور گزشتہ رات تہران اور دیگر شہروں میں پرتشدد مظاہروں کے دوران متعدد عمارتیں نذر آتش کی گئیں اور شہری املاک کو نقصان پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ان پرتشدد مظاہرین کی حمایت کر رہے ہیں اور شرپسند عناصر نے صدر ٹرمپ سے امیدیں وابستہ کی ہیں۔
دوسری جانب تہران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور حالات بدستور کشیدہ ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ترک ایئرلائن نے تہران کے لیے 5 پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق، 13 روز سے جاری مظاہروں میں اب تک 34 مظاہرین اور 8 سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرے ملکی سیاسی اور سماجی دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں، جبکہ سپریم لیڈر کے بیانات امریکہ پر داخلی اور خارجی دباؤ کے حوالے سے سخت موقف کا اظہار ہیں۔ ایرانی حکومت نے مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں اور کہا ہے کہ وہ ملک میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے مکمل تیار ہے۔
