وفاقی وزیرِ مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش انتظامی، عدالتی اور عوامی مسائل کا حقیقی حل زیادہ صوبے بنانے میں ہے، جبکہ نئے صوبے کسی ایک جماعت یا خطے کے نہیں بلکہ پورے ملک کے مفاد میں ہوں گے۔
گوجرانوالہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالعلیم خان نے کہا کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام کی باقاعدہ تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے اور جو عناصر اس سوچ کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ دراصل عوام کے خیر خواہ نہیں، ایسے لوگوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک ہی ہائیکورٹ ہے جہاں دور دراز علاقوں سے لوگ انصاف کے لیے آنے پر مجبور ہیں، جس سے عام شہری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ہم جنوبی پنجاب، شمالی پنجاب اور سینٹرل پنجاب کے حق میں ہیں تاکہ عوام کو ان کے دروازے پر سہولیات میسر آئیں۔
عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ صوبوں کے نام تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔بلوچستان، بلوچستان ہی رہے گا، لیکن اگر وہاں ایک کے بجائے تین وزرائے اعلیٰ ہو جائیں تو اس میں کیا حرج ہے؟ اسی طرح سندھ میں اگر ایک حکومت ہے تو تین وزیراعلیٰ بن جائیں، عوام کے مسائل حل ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ انتظامی بوجھ کم کیے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔زیادہ صوبے بنانا وقت کی ضرورت ہے، تمام سیاسی جماعتوں کو دل بڑا کرنا ہوگا اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر عوام کے لیے فیصلے کرنے ہوں گے
انہوں نے زور دیا کہ اگر حقیقی تبدیلی لانی ہے تو عوامی مسائل کو ترجیح دینا ہوگی، کیونکہ مضبوط انتظامی نظام ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد بن سکتا ہے
