ایران میں جاری عوامی احتجاج نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جہاں مظاہرے 100 سے زائد شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 47 افراد ہلاک جبکہ ڈھائی ہزار سے زائد مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جس کے بعد ملک میں شدید کشیدگی پائی جا رہی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر نے ایرانی عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام آزادی کے مکمل حق دار ہیں اور اسرائیل کی ان سے کوئی دشمنی نہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ ایرانی عوام نہیں بلکہ ایرانی حکومت ہے، جو نہ صرف اسرائیل بلکہ پورے خطے اور عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سخت ردعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل ایران میں افراتفری اور عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے ایران میں فسادات کو ہوا دے رہی ہیں، تاہم ایرانی ریاست کسی بھی قسم کی مداخلت کو ناکام بنائے گی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران میں بڑھتے ہوئے احتجاج، عالمی بیانات اور باہمی الزامات نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کے امن اور عالمی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
