اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین کی مدد کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد واشنگٹن میں اعلیٰ سطحی مشاورت تیز ہو گئی ہے۔
امریکی ٹی وی رپورٹس کے مطابق ایران بھر میں پھیلنے والے احتجاج کے بعد صدر ٹرمپ کو مختلف فوجی اور غیر فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی، جن میں ایرانی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے ممکنہ اقدامات بھی شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکا ایران کے خلاف سائبر آپریشنز شروع کرنے اور نئی معاشی و سفارتی پابندیاں عائد کرنے پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ تہران پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران میں مواصلاتی بندش کے تناظر میں اسٹار لنک کے ذریعے انٹرنیٹ بحال کرنے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کیا گیا، تاکہ مظاہرین کو رابطے اور معلومات تک رسائی دی جا سکے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر امریکا نے عملی طور پر ان اقدامات کی طرف پیش قدمی کی تو نہ صرف ایران بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
